حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 142
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 142 غزوہ تبوک کے بعد 9ھ میں جب بنو ثقیف کا وفد طائف سے تحقیق کے لیے مدینہ آیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ رات کے وقت اُن سے گفتگو کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول دیر سے تشریف لائے۔دیر کی وجہ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میری تلاوت قرآن کی کچھ منزل باقی رہ گئی تھی۔میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اسے مکمل کیے بغیر آجاؤں۔پس منازل قرآن کی تقسیم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہو چکی تھی۔صحابہ کرام ان سے واقف تھے اور روزانہ ایک منزل کی تلاوت مکمل کرنا بہتر سمجھا جاتا تھا۔اس حدیث کے راوی بن حذیفہ جو بنو ثقیف کے وفد میں شامل تھے بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں نے منازل قرآن کس طرح مقرر کی ہیں۔صحابہ نے جو جواب دیا اس کے مطابق منزلوں کا تعین درج ذیل ہے: پہلی منزل۔سورۃ الفاتحہ تا سورۃ النساء ( پہلی چارسورتیں ) دوسری منزل۔سورۃ المائدہ تاسورۃ التوبہ (اگلی پانچ سورتیں) تیسری منزل۔سورۃ یونس تا سورۃ النحل (انگلی سات سورتیں) چوتھی منزل۔سورۃ بنی اسرائیل تا سورۃ الفرقان (اگلی نوسورتیں) پانچویں منزل۔سورۃ الشعراء تا سورہ یسین (انگلی گیارہ سورتیں) چھٹی منزل۔سورۃ الصافات تا سورۃ الحجرات (اگلی تیرہ سورتیں) ساتویں منزل۔سورۃ ق تا سورۃ الناس (انگلی پینسٹھ سورتیں) (البرهان في علوم القرآن جلد اول، صفحه 247 تا 250)