ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 56

56 ہدایات زریں کے ماتحت پہنچانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مان لیتے ہیں۔پس ہمارے مبلغ بھی صحیح ذرائع پر عمل کریں گے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ نہ مانیں۔اگر ہم ان باتوں کو جو میں نے بیان کی ہیں اپنی جماعت کے ہر ایک آدمی میں پیدا کر دیں تو ہر سال ہماری جماعت پہلے کی نسبت دگنی ہو جائے۔کیونکہ کم از کم ایک شخص ایک کو تو احمدی بنالے اور اگر اس طرح ہونے لگ جائے تو تم دیکھ سکتے ہو کہ ہماری جماعت کس قدر ترقی کر سکتی ہے۔بیس پچیس سال کے اندر اندر دنیا فتح ہوسکتی ہے۔اس وقت اگر ہم اپنی جماعت کو بطور تنزل ایک لاکھ ہی قرار دیں تو اگلے سال دو ۲ لاکھ ہو جائے اور اس سے اگلے سال چار لاکھ، پھر آٹھ لاکھ، پھر سولہ لاکھ اس طرح سمجھ لو کہ کس قدر جلدی ترقی ہو سکتی ہے۔مگر یہ خیالی اندازہ ہے۔اگر اس کو چھوڑ بھی دیا جائے اور حقیقی طور پر اندازہ لگایا جائے تو دس پندرہ سال کے اندر اندر ہماری جماعت اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ سیاسی طور پر بھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہ جاتا۔مگر افسوس ہے کہ صحیح ذرائع اور اصول تبلیغ سے کام نہیں لیا جاتا اگر ان سے کام لیا جائے اور ان شرائط کو مد نظر رکھا جائے جو میں نے بیان کی ہیں تو قلیل عرصہ میں ہی اتنی ترقی ہوسکتی ہے کہ ہماری جماعت پہلے کی نسبت میں گنے ہو جائے۔اور جب جماعت بڑھ جاتی ہے تو وہ خود تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اگر اس وقت ہماری جماعت ہیں لاکھ ہو جائے تو ہزاروں ایسے لوگ جو چھپے ہوئے ہیں وہ ظاہر ہو کر ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔پس ایک انتظام اور جوش کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔اور اس سال ایسے جوش سے کام کر و کم از کم ہندوستان میں زلزلہ آیا ہوا معلوم ہو۔اور اگر تم اس طرح کرو گے تو پھر دیکھو گے کہ کس قدر ترقی ہوتی ہے۔