حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 7
اس فرضی شخصیت کی تخفیف ہو اور سیمیوں کو اس آئینہ میں اپنا چہرہ نظر آجائے اوراپنی حیثیت کا علم ہو جائے۔اور اس طرح وہ نبی پاک سلطان الصادقین خیرالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کے بارہ میں زبان طعن دراز کرنے سے باز رہیں۔لیکن یہ ایک مجبوری تھی کہ جس کو اختیار کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ایک سو سال قبل کے اس پس منظر میں اور ان حالات میں دفاعی طور پر الزامی جواب دینے والوں کو مورد الزام ٹھہرانا کہ وہ نعوذ بالد نبی اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے تھے کسی حامی دین اسلام اور عاشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں۔یہ تو سراسر انصاف کا دامن چھوڑنے کے مترادف ہے یا محض فتنہ پردازی اور شر انگیزی ہے۔ان علما ء نے حضرت عیسی علیہ السلام کی ذات بابرکات کو ہدف اعتراض نہیں بنایا بلکہ اس ذات کو انا جیل کے آئینہ میں پیش کیا ہے جو عیسائیوں کے نزدیک مسلمہ شخصیت ہے اور جس کا نام میسوع ہے جس کا قرآن کریم میں بیان شده نبی اللہ عیسی علی السلام سے دور کا بھی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر چند علماء کے حوالے پیش ہیں۔علمائے اہل سنت کے مقتدا مولوی رحمت اللہ مہاجر کی اپنی کتاب ازالته الاوهام (1) میں لکھتے ہیں :۔(ا) "اکثر معجزات عیسویه را معجزات ندانند زیرا که مثل آنها ساحران هم میسازند و یہود آنجناب را چوں نبی نمے دانند و همچو معجزات ساحر میگویند ۱۳۹۰ که اکثر معجزات عیسویہ کو معجزات قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ایسے کام تو جادو گر بھی کر لیتے ہیں۔اسی وجہ سے یہود آپ کو نبی تسلیم نہیں کرتے اور اُن کے معجزات کو ساحروں کے معجز سے قرار دیتے ہیں۔( ii ) " جناب مسیح اقرار میفرمایند که یحیی نه نان میخور ایندند نه شراب سے آشامیدند و آنجناب شراب ہم مے نوشیدند و یحیی در بیابان سے