سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 23
43 42 اسلام لانے کے بعد آپ نے صبر اور استقامت سے مصائب کو برداشت کیا اور خاص طور پر آپ کے عہد خلافت کے آخری سالوں میں جس فتنہ نے سر اٹھایا اس میں تو آپ نے صبر وتحمل کی حد کر دی۔فتنہ کے انسداد کے لیے جب آپ کو بعض لوگوں نے سختی کرنے کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا جن امور میں شریعت نے مجھے کسی پر سختی کرنے کی اجازت نہیں دی ان پر ہر گز سختی کو روانہیں رکھوں گا۔خواہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔“ آپ پر جھوٹ کے الزامات لگائے گئے۔آپ کو نماز پڑھانے سے روک دیا گیا۔آپ کا عصا جو دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہر خلیفہ کے ہاتھ میں رہا تو ڑ دیا گیا۔گھر کا محاصرہ کر لیا گیا۔کھانے پینے کی چیزیں گھر آنے سے روک دی گئیں اور گھر کو آگ لگا کر نوبت آپ کو شہید کرنے تک پہنچ گئی۔آپ نے نہ صرف خود انتہائی صبر و قتل سے کام لیا بلکہ صحابہ کو بھی قسم دے کر واپس بھجوا دیا کہ ان باغیوں کا مقابلہ صبر سے کیا جائے اور اپنا معاملہ پورے طور پر خدا کے سپر د کر دیا اور بڑی ہی بہادری اور جرات سے جام شہادت نوش فرمایا۔حیا حضرت عثمان کی طبیعت میں حیا بہت تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے احساسات کا پورا خیال رکھتے تھے۔یتیموں اور بیوگان کی خبر گیری آپ بہت رحمدل اور نرم مزاج تھے۔ساری عمر یتامیٰ اور بیوگان اور غریبوں کی دل کھول کر مدد کرتے رہے۔آخری وقت پر بھی آپ کے پاس یتامی اور بیوگان کی امانتیں تھیں جو آپ نے ام المومنین حضرت ام حبیبہ کے سپرد کیں۔اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کو ان امانتوں کا فکر تھا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال و دولت عطا فر مایا لیکن آپ نے اس کا اکثر حصہ دین کے کاموں ، یتامیٰ ، بیرگان اور غریبوں کی خبر گیری میں خرچ کر دیا۔بچو! ابھی آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کہانی سنی۔انسان حیران ہوتا ہے کہ کس طرح آپ نے اسلام کی سربلندی، اشاعت قرآن اور خلافت کے قیام کے لیے اپنا مال، جان ، وقت اور عزت سب کچھ قربان کر دیا۔بڑی وفا کے ساتھ اللہ کے کاموں میں لگے رہے اور فتنوں کے وقت با وجود طاقت اور قدرت کے بدی کا مقابلہ نہ کیا اور امن کا شہزادہ بن کر صبر کا ایسا نمونہ دکھایا کہ آنے والی نسلیں قیامت تک آپ کے پاک نمونہ سے سبق حاصل کرتی رہیں گی اور آپ پر درودوسلام بھیجتی رہیں گی۔انشاء اللہ تعالی۔(ختم شد)