حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 256
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ تھا اُس نے مجھے مخلص ساتھی دیئے۔اس نے میرے گناہوں کو بخشا۔میری کمزوریوں کو معاف کیا۔اس نے میری دُعاؤں کو شنا۔ان دعاؤں کو بھی سنا جو میں نے اپنے لئے کیں اور اُن دُعاؤں کو بھی سنا جو میں نے اور وں کے واسطے کیں اور اس کا شکر ہے کہ اُس نے دُعا کے معاملہ میں مجھے بخیل نہیں بنایا۔میں نے ہر مذہب وملت کے لوگوں کے واسطے دُعائیں کیں کیونکہ اللہ سب کا رب ہے۔مسلمانوں کے لئے ، ہندوؤں کے لئے پارسیوں کے واسطے۔اور اللہ تعالیٰ نے غریب نوازی کی اور ان مرادوں کو پورا کیا۔فالحمد للہ ثم الحمد للہ“ ایام علالت میں دُعا 256 حضرت مفتی صاحب کی صحت دن بدن کمزور ہو رہی تھی۔اس ضعیفی اور نقاہت میں بھی احباب جماعت کے لئے محبت سے دُعائیں کرتے۔آپ نے تحریر فرمایا احباب اخبار میں عاجز کی علالت کے حالات مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔بعض اوقات حالت ایسی ہو جاتی رہی کہ میں نے سمجھا اب آخری وقت ہے ایسے ہی ایک وقت میں مجھے خیال آیا کہ جو احباب عاجز کو دُعاؤں کے واسطے لکھتے رہتے ہیں ان کو یہ افسوس ہوگا کہ ہمارا ایک دُعا گو کم ہو گیا۔پس میں نے ان کے واسطے یہ دُعا اللہ تعالیٰ سے کی کہ: ”اے خدائے غفور و رحیم ! بخشش کر کہ میرے مرنے کے بعد بھی میرے محب جو رت صادق کے نام پر تجھ سے دُعائیں مانگیں تو اُن کی دُعاؤں کو قبول کر یو اور ان کی مرادوں کو پورا کر یو۔آمین۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے عاجز کو ایسے محبین مخلصین کی ایک بے تعداد جماعت عطا فرمائی ہے جن کے محبت بھرے پیغام اور عاجز کے ذریعے قبولیت دُعا کی اطلاعیں اور حصول مراد کی خوشخبریاں وصول ہو کر عاجز کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکریہ کے ساتھ سر بسجدہ کرتی رہتی ہیں۔( تحدیث بالنعمت ص 11 تاص 13)