حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 228
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ) اس کثرت سے ان ممالک میں بنائیں جس کی کثرت سے ہمارے گرجے بنے ہوئے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ دن آنے والا ہے اور وہ کوئی زیادہ دور نہیں جبکہ ہلال صلیب پر غالب آئے گا اور اہل امریکہ کی بہت بڑی تعداد ان اعتقادات کی پیروبن جائے گی جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔امریکہ کے کروڑوں عیسائی جو بہت مدت سے بڑے اشتیاق کے ساتھ اس وقت کا انتظار کرتے رہے ہیں کہ صلیب دنیا کے ہر حصے میں غالب ہو جائے گی اور تمام دنیا کے انسان یسوع مسیح کے پیرو بن جائیں گے ان کے نزدیک اس بر اعظم کو کافر ترک“ کے مذہب پر فتح کر لینے کی تجویز ایک نا قابل اعتبار بات معلوم ہوگی لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ تجویز واقعی طور پر عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس مذہبی جوش کے ساتھ جس کے لئے تمام مسلمان مشہور ہیں۔ایک سال سے کچھ ہی زیادہ عرصہ ہوا ہے جب کہ ریاست ہائے متحدہ میں ایک مبلغ آیا ہوا ہے جس کے ذمہ یہ فرض رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کو شمالی امریکہ کے طول و عرض میں پھیلائے۔اس کا نام مفتی محمد صادق ہے اور وہ قادیان ( پنجاب ہندوستان ) سے آیا ہے جہاں ان کے سلسلہ احمدیہ کا مرکز ہے۔سلسلہ احمد یہ اپنے بانی کی وجہ سے اس نام سے پکارا جاتا ہے جس کے متعلق مسلمان اعتقاد رکھتے ہیں کہ زمانہ موجودہ میں مثیل مسیح ہو کر آیا ہے۔مسیح کو وہ خدا کا نبی سمجھتے ہیں۔لیکن اپنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر فضیلت دیتے ہیں جسے وہ خاتم النبین کہتے ہیں۔سلسلہ احمدیہ کا خاص مقصد دین کو دنیا میں پھیلانا ہے اور جس قدر ممکن ہو سکے عیسائیت، یہودیت ، بدھ ازم اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو اس مذہب میں داخل کرنا ہے اس سلسلے کے لوگوں کا ماٹو یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ وہ طریق جس سے جماعت احمد یہ اپنا کام کرتی ہے بہت بڑی مشابہت رکھتا ہے۔اس 228