حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 213
213 حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی والدہ سے گفتگو میں آپ نے رُخ اپنے مرشد حضرت احمد علا السّلام کی طرف موڑا اور اُسے سمجھایا کہ دیکھئے اگر ایک غلام احمد اس قدر خدا نما نظر آتا ہے تو خود احمد کیسے ہوں گے۔شکا کو منتقلی اور انصار اللہ کا کارواں حضرت مفتی صاحب نے 1922ء میں اپنا ہیڈ کوارٹر شکا گومنتقل کر لیا۔Wabash 4448 Avenue پر ایک مکان لیا اس میں کچھ رد و بدل کیا چھت کو ایک گنبد اور دو میناروں سے مزین کروایا۔اس نئی جگہ کو آراستہ کرنے اور دیگر کاموں میں نئے احمدی ہونے والے دوستوں نے ذوق و شوق سے حصہ لیا۔عقیدت و احترام سے سرگرم عمل ہونے والے احباب حضرت مفتی صاحب کے دست و بازو بن گئے۔مفتی صاحب، با قاعدگی سے سن رائز میگزین میں نئے شامل ہونے والوں کی فہرست طبع کرواتے اور اسی طرح جماعتی خدمات کرنے والوں کے نام اور کام بھی شکریے اور دُعاؤں کے ساتھ شامل فرماتے۔آپ کا اظہار ممنونیت ایک تاریخ رقم فرما گیا۔چند ایک کا ذکر تازہ کرتے ہیں۔سسٹر راحت اللہ بیگم مصطفی که صاحبہ ابتدائی احمدی خواتین میں سے تھیں زندگی وقف کی روح کے ساتھ خدمت میں مصروف رہتیں۔تعلیم یافتہ اور با صلاحیت تھیں نثر نگار اور شاعرہ تھیں ،تقریر بھی اچھی کرتی تھیں۔ان کے ذریعے بہت سی روحوں کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی سعادت نصیب ہوئی۔مشن ہاؤس کے بہت سے کام اپنے ذمے لے رکھے تھے۔سن رائز میں کئی جگہ ان کے مضامین اور نظمیں نظر آتے ہیں۔نمونہ کلام : ALHAMDOLILLAH: The Moslem Sunrise is scattering seeds upon the desert sand And with each seed is mingled a drop of rain Thy mind is but a desert without the sacred truth Receive, O blind one, the seed and rain the Moslem Sunrise gives to you After two years of ceaseless labor Sowing seeds in hard baked soil,