حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 117
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 117 ه يا عين فيض الله والعرفان یہ پہلی نظم ہے جو حضور علی السّلام نے لکھی۔حضور علی لسّلام فرماتے تھے کہ کوئی زبان ایسی نہیں کہ تین دن بھی میں اس کی طرف توجہ کروں اور اس کا ماہر نہ ہو جاؤں۔انگریزی بھی ایک مفید زبان ہے مگر میں اس کو آپ لوگوں کے ثواب کے لئے چھوڑتا ہوں۔( بدر 11 دسمبر 1913ء) صلوۃ اور دُعا میں فرق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوٰۃ اور نماز میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔الصَّلوةُ هِيَ الدُّعا۔صلوۃ ہی دُعا ہے۔الصَّلوةُ مُخ العبادة نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعے سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔صلوۃ کا لفظ پر سوز معنی پر دلالت کرتا ہے۔جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دُعا میں پیدا ہونی چاہیے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اُس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔کارکن کی صفات ( ذكر حبيب ص 132 ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے : " جب تک کسی شخص میں تین صفتیں نہ ہوں وہ اس لائق نہیں ہوتا کہ اُس کے سپر د کوئی کام کیا جائے اور وہ صفات یہ ہیں :