حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 15
اس لئے عمر بھی لمبی ہوئی اور امارت کا ترجمہ کرتے تھے کہ امیر ہو گیا حالانکہ نہ وہ بات ٹھیک تھی نہ یہ بات ٹھیک تھی۔ایک دفعہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے کسی نے یہ سوال کیا اور مجھے فائزہ (حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی بیٹی بی بی فائزہ صاحبہ مراد ہیں ) نے ان کی کتاب میں سے نکال کے دکھایا ہے۔وہی بات کی جو میں نے کی تھی۔اس زمانے میں جب کہ ابھی یہ فوت بھی نہیں ہوئے تھے، کسی نے پوچھا کہ دیکھنے میں تو ان کے متعلق یہ باتیں پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں۔تو آپ کا کیا خیال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام تو ہو نہیں سکتا کہ پورے نہ ہوں۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے دو باتیں کیں جو بہت عمدہ تھیں۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے کہا۔دیکھو بعض دفعہ باپ کے متعلق الہام ہوتا ہے اور بیٹے پر پورا ہوتا ہے اس لئے ان کے متعلق جو الہام ہوا وہ اگلا وقت بتائے گا کہ دراصل وہ ان کے بیٹے کے اوپر پورا ہوگا اور بیٹے تین تھے۔ایک مرزا منصور احمد صاحب، ایک مرزا ظفراحمد صاحب اور ایک مرزا داؤ د احمد صاحب۔وہ دونوں ( یعنی مرزا ظفر احمد صاحب اور مرزا داؤ د احمد صاحب) ان ( یعنی مرزا منصور احمد صاحب) سے بہت چھوٹے تھے اور وہ دونوں ان کی زندگی میں فوت ہو گئے اور ان کو دل کی بیماریاں اور دوسری بار بار لاحق ہوتی رہیں۔ہر بیماری پر ڈاکٹر کہتے تھے کہ بس اب چھٹی۔مگر بغیر توقع کے پھر عمر لمبی ہو جاتی تھی۔ان کی عمر 87 سال اور آٹھ مہینے تھی۔جو باقی بھائیوں سے بہت زیادہ ہے۔اور حضرت میاں شریف احمد صاحب کی ان کے مقابل پر بہت چھوٹی ہے اور یہی وہ بھائی ہیں مرزا منصور احمد صاحب اللہ ان 15