حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 12
راہ مولیٰ میں اسیری یکم اپریل 1953ء کو پیش آنے والے واقعات میں تکلیف دہ واقعہ جس نے دنیا بھر کے احمدیوں کو تڑپا دیا یہ تھا کہ رتن باغ لاہور سے حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثالث ) ایک سراسر نا جائز اور غلط الزام میں گرفتار کر لیے گئے اور فوجی عدالت نے انہیں مارشل لاء ضوابط نمبر ۱۳ کے تحت بالترتیب ایک سال قید با مشقت اور پانچ ہزار روپیہ جرمانہ اور پانچ سال قید با مشقت اور پانچ سو روپیہ جرمانہ کی سزادی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور دونوں بزرگ قریباً دو ماہ کے بعد 28 مئی 1953 ء کو قید سے رہا کئے گئے۔جہاں آپ قید تھے۔آپ کا کمرہ بہت چھوٹا سا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے چہرے پر کرب ، گھبراہٹ یا بے چینی کا کسی قسم کا تاثر نہیں دیکھا گیا۔جیل میں بھی آپ نے ذکر الہی اور عبادات میں وقت گزارا۔(ماہنامہ خالد ر بوه ، سید نا ناصر نمبر، ص241-245 ) ربوہ کا نقشہ بچو! آپ جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ربوہ کا افتتاح ستمبر 1948ء میں فرمایا تھا۔ابتداء میں اس شہر کے چھوٹے 12