حضرت مرزا ناصر احمد — Page 21
۲۱ کے تحت طے ہو گیا تھا۔آپ نے بتایا کہ حضرت اماں جان نے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے حمل کے دنوں میں ہی فرمایا تھا کہ اگر تمہارے ہاں بیٹی ہوئی تو اس کا رشتہ ناصر احمد سے کروں گی۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ :- " منصورہ بیگم کے ساتھ میرا رشتہ جب وہ ابھی پیٹ میں ہی تھیں کے ہو گیا تھا۔" اسی طرح حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے بھی اس رشتہ کے بارہ میں ایک خواب دیکھا تھا۔چنانچہ اور جولائی ۱۹۳۳ء میں حضرت مصلح موعود نے نکاح کا اعلان فرمایا۔نکاح کے تقریب ایک ماہ بعد شادی کی تقریب عمل میں آئی۔بارات ہم راگست ۱۳۴ ء کو مالیر کوٹلہ گئی۔اگلے روند ۵ راگست کو سید تا حضرت خلیفہ المسیح الثانی خود بھی کار میں مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے۔ایک روزہ قیام کے بعد 4 اگست کو بارہ بجے بروز دو شنبہ بارات واپس قادیان پہنچی۔د را اگست کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے دعوتِ ولیمہ دی گئی جس میں اندازا دو ہزار افراد نے شرکت کی۔جو اصحاب اس دعوت میں شامل نہ ہو سکے انہیں ور اگست بعد نماز ظہر کھانے پر بلایا گیا بمستورات کی ضیافت کا انتظام۔ا را گست کو کیا گیا۔انگلستان روانگی شادی کے قریب ایک ماہ بعد حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر آپ ۱۹۳۴ ء