حضرت مرزا ناصر احمد — Page 16
: ۱۶ - خلیفہ اسیح الثالث کے لئے بھی ایسا انتظام فرمایا کہ پہلے آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآن کریم کا تاج اپنے سر پہ سجایا۔۱۷ را پریل ۱۹۲۶ء کو جبکہ آپ کی عمر تیرہ سال کی تھی آپ نے حفظ قرآن مکمل کیا۔وقتی طور پر دنیاوی تعلیم کا حرج ہونا لازمی امر تھا۔چنانچہ حضرت اماں جان نے ایک مرتبہ حضرت مصلح موعود سے اپنے اس فکر کا اظہار فرمایا کہ کہیں ناصر دوسرے بچوں سے پیچھے نہ رہ جائے۔حضرت مصلح موعود نے مسکرا کر جواب دیا۔" اماں جان آپ اس کا بالکل فکر نہ کریں ایک دن یہ سب سے آگے ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ " سوا اپنے پیارے کے منہ سے نکلی ہوئی بات اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی اور اس موعود بچے کو دینی اور دبنیادی دونوں علوم سے مالا مال فرمایا را در سب سے بڑھ کر خلافت کا منصب اعلیٰ عطا فرمایا ، بعد ازاں دینی تعلیم کے حصول کیلئے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور جولائی ۱۹۲۹ ء میں آپ نے جامعہ احمد قادیان سے پنجاب یونیورسٹی کا امتحان " مولوی فاضل، پاس کیا اور پنجاب بھر میں تیسرے نمبر پر رہے۔مدرسہ احمدیہ میں حصول تعلیم کے دوران آپ سکا پلٹس کے TROUPE LEADER مقرر ہوئے۔ٹروپ لیڈر ۱۹۲۷ ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ تنگ تھی آپ نے مدرسہ احمدیہ کے بوائے سکاؤٹس کی مدد کے ساتھ راتوں رات جلسہ گاہ کو وسیع کر دیا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود اس کام سے بہت خوش ہوئے اور آپ کے ارشاد پر افسر جلسہ سالانہ کی طرف سے میڈل دیئے گئے جو کہ حضرت مصلح موعود نے اپنے دست مبارک سے سکاؤٹس کو لگائے۔