حضرت مرزا بشیر احمد ؓ

by Other Authors

Page 22 of 30

حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 22

مشورہ کرنے آرہا ہے۔کوئی کسی مقدمہ کے بارہ میں امداد طلب کرنے آرہا ہے۔کسی کو بیماری نے پریشان کر رکھا ہے اور وہ آپ سے علاج کیلئے مشورہ طلب کرنا چاہتا ہے۔کوئی مقروض ہے قرض خواہوں نے اسے تنگ کر رکھا ہے اور وہ دعا کروانا چاہتا ہے۔مگر آپ ہیں کہ ہر ایک کی بات کو بڑے تحمل اور بردباری سے سن رہے ہیں اور جو امداد کا مستحق ہے اس کی امداد کر رہے ہیں جو مشورہ کا محتاج ہے اسے مشورہ دے رہے ہیں جو دعا کا طالب ہے اسے دعا دے رہے ہیں۔محترم مختار احمد صاحب ہاشمی ہیڈ کلرک دفتر خدمتِ درویشاں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ہدایت فرمائی کہ اگر آپ کی نظر میں کوئی امداد کا مستحق ہو اور وہ خودسوال کرنے میں حجاب محسوس کرتا ہو تو ایسے افراد کا نام آپ اپنی طرف سے پیش کر دیا کریں مگر یہ خیال رہے کہ وہ واقعی امداد کا مستحق ہو۔چنانچہ میں اس عرصہ میں ہر موقع پر مستحق افراد کے نام پیش کر کے انہیں امداد دلوا تا رہا ہوں۔ایک دفعہ حضرت میاں صاحب نے چند غرباء کو رقم بطور امداد ادا کرنے کی مجھے ہدایت فرمائی مگر میں خاموش ہو رہا۔اس پر حضرت میاں صاحب نے میری طرف دیکھتے ہوئے میری خاموشی کی وجہ دریافت فرمائی۔میں نے عرض کی کہ امداد فنڈ ختم ہو چکا ہے اور کوئی گنجائش (Balance) نہیں ہے۔آپ نے مشفقانہ نگاہوں سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا۔گھبرائیں نہیں، رقم اوور ڈرا ( Over 22