حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ — Page 40
م کو قائم ہوئی۔لہذا ۱۲۰۰ ہجری جماعت احمدیہ کے قیام کی دوسری ہجری صدی غلبہ اسلام کی صدی کا پہلا قمری سال ہو گا اور حضور رحمہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے پردہ پر واحد مقدس وجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے چودھویں صدی کے اختتام پر یہ القادر فرمایا کہ چودھویں صدی کا الودائع اور پندرھویں صدی کا استقبال لا اله الا اللہ کے ورد سے کیا جانا چاہیئے۔داریم امر نہ صرف خلافت ثالثہ کی حقانیت کا چکتا ہوا نشان ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی صداقت پر بھی زندہ بہ مان ہے۔کیونکہ سورة محمد کی اسی آیت میں جہاں غلبہ اسلام کے لئے بختہ یعنی ۱۴۰۷ ہجری کے بعد آنے کی خبر دی گئی ہے ، وہاں اگلی آیت میں واضح الفاظ میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ : فَاعْلَمْ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صاف دل کو کثرت اعجازہ کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گھیر دی میں ہو خوف کیر دگار جا سالانہ کے لئے قوموں کی تیاری 11 - حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے عہد مبارک کا پہلا جلسہ سالانہ شاہ میں ہوا جس میں صرف د مخلصین احمدیت نے شرکت فرمائی۔اس جلسہ کے بعد حضور نے ، دسمبر تار کے اشتہار میں خُدا کے حکم سے یہ پیش گوئی فرمائی کہ : اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر