حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ — Page 26
اسی رہبانی سنت کے مطابق ہر احمدی علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہے کہ ہمارے محبوب امام سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ کی زندگی بخش سیرت کے انقلابی آثار نہ صرف یہ کہ خُدا کے فضل وکرم سے قیامت تک تازہ اور زندہ و تابندہ رہیں گئے۔بلکہ ان کی بنیاد پر انشاء اللہ اسلامی معاشرہ کی وہ سر بفلک اور عالی شان عمارت تعمیر ہوگی جس کے سامنے ماسکو ، پیکینگ لندن اور نیو یارک کی تہذیب و تمدن کے سارے نقش ونگار بالکل باند پڑ جائیں گے۔اور ان کے حسین وجمال کا سب جادو ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا اور رب کعبہ کی قسم ! ساری دنیا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی جیسا کہ حضور رحمہ اللہ نے خُدا سے علم پاکر 19 نومبر ۱۹۸۰ء کو یہ پیشگوئی فرمائی کہ : " میری روحانی نگاہ دیکھ رہی ہے کہ خود بیجاری کے ہاتھ سے بتوں کو توڑ دیا جائے گا اور وہ کروڑوں) سینے جن میں ظلمات بھری ہوئی ہیں وہ شرک سے خالی ہو کر خدا اور محمد کے نور سے بھر جائیں گے۔امت مسلمہ میں چودہویں صدی میں تکفیر کا بازار گرم بر ہا۔یہ سب ختم ہو جائے گا۔پندرھویں صدی اس کو ختم کر دے گی۔میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہی اللہ کا منشاء