حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 43
۴۳ لیکن صد حیف ایسے بھی میں بعض با نصیب جو تجھ سے میرے قرب کی رکھتے نہیں خبر مجھ سے عناد و تنبض و عداوت ہے ان کا دیں اُن سے مجھے کلام نہیں لیکن اس قدر اسے وہ کہ مجھ سے رکھتا ہے پر خاش کا خیال اسے آں کہ سوئے من بدویدی بعد تبر ازه باغبان بترس که من شاخ مثمرم بعد از خدا لعشق محمد محمرم گر شفر این بود بخند اسخت کا فرم آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے بر سے ہے شرق و غرب پر یکساں تیرا کرم تو مشرقی نہ مغربی اسے نور شش جہات تیرا وطن عرب ہے نہ تیرا وطن مجسم