حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 33
پر آپہنچا۔انسانی مکھیوں نے اپنی بھنبھناہٹ شروع کردی۔جس سے اُس کی صدائی طبیب سنی گئی۔تاہم نہایت مشکل سے ایک کمسن طفل مکتب نے اسکے الفاظ بغور نے آفتاب تریج جوزا پر پہنچتے ہی ایک منارہ کی طرف لپکا۔جس کا طول ایک ہزار فیٹ تھا۔لیکن اب آفتاب ایک پرندہ کی شکل میں متمثل ہو گیا اُسکے چار پر تھے۔پہلے پر کے اگلے حصہ پر تور لکھا ہوا تھا۔اور دوسرے پر کے حصہ پر محمود تیرے پڑ کے عین وسط میں ناصر الدین اور چوتھے پر اھل بیت ان چاروں پیروں کے زیر ایک زرد چاور اور ایک سرخ چادر تھی۔سرخ چاور زمین پر گر پڑی اور زدو چادر آفتاب میں سما گئی تخمینا ہے نوں کے بعد آفتاب اسی منارہ بیعنا کے مین جنوب کی طرف غائب ہو گیا اور پھر سات ہے کشف میں نظر نہ آیا۔وہی پیوست ستارہ دوبارہ چکا۔جسکی شعاع مغرب پر زیادہ پڑ رہی ہیں۔چند لمحوں کے بعد ستارہ زمین کی طرف اُسی منارہ کی طرف آیا اور ایک شریفی آواز کے ساتھ عَسَى أَن يَبْعَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودا، پڑھتا ہوا دوبارہ ملک کی جانب گیا۔معا ہی دوستارے ظاہر ہوئے۔لیکن وہ تمام کے تمام روشن نہ تھے۔بلکہ انکا نصف حصہ روشن، اور نصف تاریک تھا۔یہ سنا ہے ابھی نمودار ہی ہوئے تھے کہ ایک ستارہ اُسی منارہ بیضا سے طلوع ہوا اور وہ اُس آفتاب کی مانند تھا۔جو غروب ہو چکا ہے اس ستارہ کے طلوع ہوتے ہی دوسرے ستارے درہم ہو گئے۔اور وہ دوست ہے جو نصف روشن اور نصف تاریک تھے۔بالکل تاریک ہو کر ایک بستی میں جا پڑے وہ بستی جس کی بابت نبی نے فرمایا تھا کہ اسے شہر تو بھی کہیگا۔کہ میں شہر تھا۔تیری اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی۔وقت قریب ہے کہ ایک راز تھا۔جو آج سے بیس سال پہلے گزر چکا۔بہت سے کانوں نے سنا گھر سوچا نہیں۔آنکھوں نے دیکھا۔مگر مشاہدہ نہ کیا۔دماغوں میں گیا۔گھر غور نہیں کیا گیا۔پس آج میں مل الاعلان کہتا ہوں کہ اسے آدم کی نسل تیری خاطر جسے مبعوث کیا گیا تھا۔اسے قبول کر لیا ہے کے رہنے والو؟ آؤ میں تمہیں تمہاری ہی کتاب سے اُس کے نشانات اُسکی علامات ملاؤں۔مسلمان کہلانے والو؟ آن کلام مقدس سے ہی نہیں پیش گوئیاں بتلاؤں۔حدیث موجود ہے