حضرت خلیفۃ المسیح الرابع

by Other Authors

Page 11 of 49

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع — Page 11

۱۹۲۸ء کا سال سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں بہت ہی مبارک سال ہے کیونکہ اس سال حضرت مصلح موعود نے سائمن کمیشن کی آمد پر سلمانان ہند کی رہنمائی فرمائی۔گھروں میں درس جاری کرنے کی تحریک کی۔جامعہ احمدیہ کے نام سے ایک عظیم الشان ادارہ قائم فرمایا۔سیرت النبی کے بابرکت جلسوں کی بنیا د رکھی۔ایک ماہ تک مسجد اقصی میں سورۃ یونس سے سورۃ کہف تک کا ایمان افروز درس دیا جس میں مرکز احمدیت کے علاوہ بیرونی احباب بھی بکثرت شامل ہوئے جن کی اکثریت گریجوایٹ وکلاء ، کالجوں کے طلباء اور حکومت کے معرہ عہدیداروں اور روس پر مشتمل تھی درس القرآن کی مصروفیات کے بعد حضور نے الفضل کے ذریعہ ضرور پورٹ پر اپنی رائے کا اظہار فرمایا جو نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کے عنوان سے ۲ اکتوبر ۱۹۲۸ء سے ۱۲ نومبر ۶۱۹۲۸ تک سات قسطوں میں مکمل ہوا۔یہ مضمون مسلمانوں کے حقوق اور ہنرور پورٹ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا اور مسلمانوں کے سیاسی حلقوں میں ازحد مقبول ہوا۔حضور کی اس عظیم الشان قومی خدمت کا غلغلہ بلند ہو ہی رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد جیسا فرزند ارجمند عطا فرمایا اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ پر خدا تعالیٰ کا یہ خاص فضل نازل ہوا کہ بٹالہ سے قادیان تک کے سفر کی تکالیف کا بھی خاتمہ