حیات طیبہ

by Other Authors

Page 463 of 492

حیات طیبہ — Page 463

463 رہتا تھا اور آپ دریافت فرما لیا کرتے کہ فلاں مہمان کو کیا کیا پسند ہے اور کس چیز کی اسکو عادت ہے چنانچہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے کا جب تک نکاح نہیں ہوا۔تب تک آپ کو ان کی دلداری کا اس قدر اہتمام تھا کہ روزانہ خود اپنی نگرانی میں ان کے لئے دودھ ، چائے، بسکٹ، مٹھائی، انڈے وغیرہ برابر صبح کے وقت بھیجا کرتے اور پھر لے جانے والے سے دریافت بھی کر لیتے تھے کہ انہوں نے اچھی طرح سے کھا بھی لیا۔تب آپ کی تسلی ہوتی۔اسی طرح خواجہ صاحب کا بڑا خیال رکھتے اور بار بار دریافت فرمایا کرتے کہ کوئی مہمان بھوکا تو نہیں رہ گیا۔یا کسی کی طرف سے ملازمان لنگر خانہ نے تغافل تو نہیں کیا۔بعض موقعہ پر ایسا ہوا کہ کسی مہمان کے لئے سالن نہیں بچا۔یا وقت پر ان کے لئے کھانا رکھنا بھول گیا۔تو اپنا سالن یا سب کھانا اس کے لئے اٹھوا کر بھجوا دیا۔بار ہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے پاس تحفہ میں کوئی چیز کھانے کی آئی۔یا خود کوئی چیز آپ نے ایک وقت منگوائی پھر اس کا خیال نہ رہا اور وہ صندوق میں پڑی پڑی سڑ گئی۔یا خراب ہو گئی اور اسے سب کا سب پھینکنا پڑا۔یہ دنیا دار کا کام نہیں۔ان اشیاء میں سے اکثر چیزیں تحفہ کے طور پر خدا کے وعدوں کے ماتحت آتی تھیں اور بار ہا ایسا ہوا کہ حضرت صاحب نے ایک چیز کی خواہش کی اور وہ اسی وقت کسی کو وارد یا مرید با اخلاص نے لا کر حاضر کر دی۔آپ کو کوئی عادت کسی چیز کی نہ تھی۔پان البتہ کبھی کبھی دل کی تقویت یا کھانے کے بعد منہ کی صفائی کے لئے یا کبھی گھر میں سے پیش کر دیا گیا تو کھالیا کرتے تھے۔یا کبھی کھانسی نزلہ یا گلے کی خراش ہوئی تو بھی استعمال فرمایا کرتے تھے۔حقہ تمباکو کو آپ ناپسند فرمایا کرتے تھے بلکہ ایک موقعہ پر کچھ حقہ نوشوں کو نکال بھی دیا تھا ہاں جن ضعیف العمر لوگوں کو مذت العمر سے عادت لگی ہوئی تھی ان کو آپ نے بسبب مجبوری کے اجازت دیدی تھی۔کئی احمدیوں نے تو اس طرح پر حقہ چھوڑا کہ ان کو قادیان میں وارد ہونے کے وقت حقہ کی تلاش میں تکیوں میں یا مرزا نظام الدین وغیرہ کی ٹولی میں جانا پڑتا تھا۔اور حضرت صاحب کی مجلس سے اٹھ کر وہاں جانا چونکہ بہشت سے نکل کر دوزخ میں جانے کا حکم رکھتا تھا۔اس لئے با غیرت لوگوں نے ہمیشہ کے لئے حقہ کو الوداع کہی۔ہاتھ دھونا وغیرہ کھانے سے پہلے اور بعد میں ضرور ہاتھ دھویا کرتے تھے اور سردیوں میں اکثر گرم پانی استعمال فرماتے۔صابون بہت ہی کم برتتے تھے کپڑے یا تولئے سے ہاتھ پونچھا کرتے تھے۔بعض ملانوں کی طرح ڈاڑھی سے چکنے ہاتھ پونچھنے کی عادت ہرگز نہ تھی۔کبھی بھی کھانے کے بعد فرماتے تھے اور خلال بھی ضرور رکھتے تھے۔جو اکثر کھانے کے بعد کیا کرتے تھے۔رمضان کی سحری کے لئے آپ کے لئے سالن یا مرغی کی ایک ران اور فیرنی عام طور پر ہوا کرتے تھے اور