حیات قدسی — Page 636
۶۳۶ طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا۔اچھا دباؤ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکا دے گا۔اس کے بعد ٹھیک ایک سال بعد میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔جس کا نام احسان الحق رکھا گیا اس کی عمراب تیرہ سال ہے۔یہ حضرت مولوی صاحب کی توجہ اور دعا کا بفضلہ تعالیٰ ثمرہ ہے۔اس کے بعد اور کوئی اولا د میرے ہاں نہیں ہوئی۔“ خاکسار محسن خاں کیرنگ ( اڑیسہ ) مورخہ ۵۶-۱۱-۳ امتحان میں خارق عادت کامیابی میں گولڈ کوسٹ کا رہنے والا ایک غیر ملکی طالب علم ہوں۔میری والدہ نے مجھے مرکز میں عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھجوایا۔میں اواخر ۱۹۵۲ء میں ربوہ پہنچا۔اور جامعتہ المبشرین میں داخل ہوا۔اور سات ماہ کے قلیل عرصہ تک اردو زبان پڑھی۔اس کے بعد میں جامعہ احمدیہ میں داخل کیا گیا۔جامعہ احمدیہ میں ذریعہ تعلیم اردو ہے اور مولوی فاضل کے پرچے بھی اردو میں لکھنے پڑتے ہیں۔جن طلباء کی مادری زبان اردو ہے وہ بھی مولوی فاضل کا کورس تیار کرنے میں دقت محسوس کو کرتے ہیں اور میرے لئے اردو میں پڑھنا اور امتحان دینا ایک نا قابل برداشت بوجھ تھا۔ہمارا چار سال کا کورس تھا۔بہت مشکل کے ساتھ میں پہلے سال میں کامیاب ہو گیا۔دوسرے سال میں منطق اور فقہ جیسے مشکل مضامین تھے۔جن کو اردو میں تیار کرنا میرے لئے ناممکن تھا بالخصوص منطق کے مسائل میرے ذہن میں بالکل نہ آتے تھے۔جوں جوں امتحان قریب آتا گیا میری تشویش اور پریشانی اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے بڑھتی گئی۔میں نے اس کا ذکر اپنے مشرقی افریقہ کے دوست مسٹر عمری عبیدی سے کیا۔جن کو حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سے تعارف حاصل تھا اور وہ ان کے فیوض سے متمتع ہو چکے تھے۔انہوں نے بہت سے معجزانہ واقعات جو انہوں نے حضرت مولانا صاحب کی دعاؤں کے نتیجہ میں بفضلہ تعالیٰ کے ظاہر ہوتے دیکھے مجھ سے بیان کئے اور کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا صاحب کی دعا کی برکت سے آپ کو کامیاب کر دے گا۔