حیات قدسی

by Other Authors

Page 550 of 688

حیات قدسی — Page 550

وَالْبَغْى 60 - يقينا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل و انصاف اور احسان اور قریبی رشتہ داروں جیسا سلوک کرنے کا اور روکتا ہے بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے۔پس عدل و انصاف اور فطری ہمدردانہ سلوک پر عمل کرنا اور ذاتی بدی جو بد کار کی طرف سے کسی دوسرے تک اثر انداز ہوتی ہے اور المنکر کے نام سے موسوم ہے اور پھر وہ بدی جو اپنے محسنوں اور پاسبان حکومتوں اور امن کے حامیوں کے خلاف کی جاتی ہے ان سے خود بھی مجتنب رہنا اور دوسروں کو بھی مجتنب رکھنا۔یعنی عدل و احسان اور فطری ہمدردی کا سلوک دنیا میں عمل میں لانا اور فحشاء اور منکر اور نبی سے بچنا اور بچانا یہ چھ ا موریا یہ چھ خصائل ایسے ہیں کہ اگر دنیا میں امن کی تعلیم جو امر و نہی کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔رواج پذیر ہو جائے تو ہر طرف ہر ملک میں اور ہر قوم میں امن ہی امن قائم ہو جائے۔دنیا میں ہزاروں لاکھوں عقلمند اور علم والے اگر کسی مجلس میں باہمی مشورہ اور رائے صائب سے زیادہ سے زیادہ تدبر اور غور کے بعد بھی امنِ عالم کے لئے کوئی قانون پاس کریں یا تعلیم رائج کریں تو قرآن کریم کی اس مختصر اور جامع مانع اور کامل تعلیم سے بڑھ کر نہ پیش کر سکیں گے۔دنیا میں بدامنی عدل کی ضد یعنی ظلم سے ہوئی یا محسن کشی سے جو احسان کی ضد ہے یا والدین اور محسن حکومت کی بغاوت سے جو ایتاء ذی القربیٰ کی ضد ہے۔اگر یہ اضداد دور ہو جائیں تو پھر امن کی صورت ضرور پیدا ہو جائے گی اور اگر لف و نشر کے رو سے بصورت عکس دیکھا جائے تو فحشاء عدل کی ضد ہے اور منکر احسان کی اور بغی ایتایء ذی القربی کی۔دنیا میں جب بھی امن کی کامل اور صحیح طور پر صورت پیدا ہوئی تو خدا کے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ ہی پیدا ہوئی۔تاریخ کے صفحات سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ عرب میں رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قوم عرب کن حالات میں سے گذر رہی تھی۔آیا امن میں یا فساد میں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پیدا شدہ جماعت نے بلحاظ امن کے کیسے اچھے حالات پیدا کئے پھر دنیا جانتی ہے کہ نبیوں رسولوں کی اتمام حجت کے بعد حسب دستورِ سنتِ الہیہ کہ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا۔یعنی ہم عذاب دینے والے نہیں جب تک کہ رسول مبعوث نہ کر لیں۔شریر مخالفوں کی تباہی اور ہلاکت کے لئے ضرور عذاب آیا کرتے ہیں۔چنانچہ قومِ نوح قوم ہو د قوم صالح قوم لوط قوم شعیب اور فرعونیوں پر عذاب آئے اور وہ عذاب اور ہلاکتیں اسی لئے موجب تباہی بنیں