حیات قدسی — Page 398
۳۹۸ خاکسار اس مبارک تقریب پر یب پر بطور شکرانہ نعمت و نذرانہ محبت پچاس روپیہ کی حقیر رقم حضور اقدس کی خدمت والا میں پیش کرتا ہے۔جس میں سے مبلغ چالیس روپے کی رقم المصلح الموعود کے لئے ہے اور دس روپے حضرت سیدہ امی وام المومنین سلمہا اللہ و مدظلہ العالی کے لئے ے گر قبول افتد ز ہے عز وشرف۔نیز پچاس روپیہ کی رقم مذکورہ رقم کے علاوہ پیش خدمت ہے۔یہ وہ رقم ہے جو حضور نے تحریک جدید کے دور اول کے سال دہم کے چندہ میں علاوہ سور و پیہ کی رقم مرسلہ کے منظور فرمائی تھی۔یہ سراسر خدا تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ خدا وند کریم نے حضور اقدس کی معجزانہ دعوات کی برکات سے پھر مجھ خاکسار کو نئی زندگی بخشی ہے۔جس سے مجھے علاوہ تحریک جدید کے دور اول کے آخری سال کے چندہ کی ادائیگی کے خدا کے فضل سے یہ موقع بھی میسر آ گیا کہ اپنی نئی زندگی میں مصلح موعود کی بشارت عظیمہ کے پورا ہونے کے اعلان بھی سن لیا۔ان ایام میں دو دفعہ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان سے حضور کے متعلق رویا بھی دیکھی۔ایک دفعہ اس سفر میں دیکھا کہ دار المسیح میں حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کی قائم مقامی میں سلسلہ کے کاموں میں مصروف ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود زندہ معلوم ہوتے ہیں اور یہ ہرگز خیال نہیں آتا کہ حضور کی وفات ہوگئی ہے۔دوسری رؤیا پرسوں رات کی ہے کہ دارالامان کی سب آبادی ایک جشن تعظیم کی تیاری میں ہے۔بہت بڑا اجتماع ہے۔اس میں ایک منبر بچھی ہے۔جس کے جنوب کی طرف حضور یعنی سیدنا المصلح الموعود ہیں اور جانب مشرق حضرت میاں شریف احمد صاحب ہیں۔دونوں حضرت کے چہرے عجیب شان دکھا رہے ہیں۔اس وقت حضرت میاں شریف احمد صاحب بے تکلفی سے ا ہاتھوں کے اشارہ سے حضور کے ساتھ گفتگو فرما رہے ہیں اسی اثنا میں میں بیدار ہو گیا۔ایسا ہی کچھ عرصہ پیشتر خواب میں دیکھا کہ حضور کی طرف سے ایک تفسیر کئی قسطوں میں شائع فرمائی جا رہی ہے۔جو جماعت کے خاص خاص لوگوں کے ہاتھوں میں دی جارہی ہے اس تفسیر کا نام بشارات الغفور ہے۔وہ تغییر خدا کے فضل سے خواب میں مجھ کو بھی دی گئی۔پھر اسی رؤیا میں یہ بھی دیکھا کہ جن لوگوں کو یہ تفسیر ملتی ہے۔ان کے مکانات دار المسیح کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔یہ