حیات قدسی — Page 363
۳۶۳ ایک رکوع قرآن کریم کا جہاں سے ہم چاہیں، تفسیر کے ساتھ سنا دیا کریں۔میں نے عرض کیا کہ مجھے اس خدمت کے بجالانے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق ہر روز ایک رکوع کا میں درس دیتا رہا۔حضرت میر صاحب میرے زخم کا کئی دن تک معائنہ فرماتے رہے۔اور آپ نے یہ رائے قائم ہے کی کہ ڈاکٹر نے اپریشن بہت قابلیت سے کیا ہے۔لیکن چونکہ دنبل میں پیپ پڑنے سے پیشاب کی نالی کا نیچے کا حصہ کھایا جا چکا ہے۔اور اس میں سوراخ ہو گیا ہے اس لئے پیشاب بجائے اصل راستہ کے اس سوراخ سے بہہ جاتا ہے۔چونکہ یہ زخم اور سوراخ ایسی جگہ ہے۔جو بہت نازک ہے۔اس لئے نہ تو یہاں ٹانکے لگائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی زخم کے اند مال کی کوئی اور تدبیر کی جاسکتی ہے۔اور فرمایا کہ اس زخم کو اسی حالت پر چھوڑ دیں۔شاید کوئی صورت اصلاح کی اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے۔اس وقت میری حالت یہ تھی کہ پیشاب چونکہ اصل رستہ سے نہیں آتا تھا۔اس لئے زخم میں شدید درد ہوتا تھا جو برداشت سے باہر تھا۔جب ہم نے وہاں سے حضرت صاحب کی خدمت میں تمام کو ائف لکھے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ آپ قادیان آجائیں۔چنانچہ ہم قادیان کے لئے روانہ ہو گئے۔اسٹیشن تک میر صاحب بھی ساتھ آئے اور جب گاڑی چلنے لگی تو آپ نے میرے ہاتھ میں ایک لیٹی ہوئی چیز دے کر فرمایا کہ اس کو دو تین اسٹیشن گذرنے کے بعد کھول کر دیکھ لیں۔جب میں نے دو اسٹیشنوں کے بعد اس کاغذ کو کھولا۔تو اس میں ایک رقم تھی اور ساتھ رقعہ تھا کہ آپ دیر کے بعد گھر جا رہے ہیں۔میری طرف سے گھر میں بچوں کے لئے کوئی تحفہ لے جائیں۔حضرت میر صاحب رضی اللہ تعالیٰ کے اس اخلاص اور بے ریاء شفقت کا میرے قلب پر نہایت ہی گہرا اثر ہوا۔فجزاهم الله احسن الجزاء حضرت ام المومنین کی طرف سے ضیافت جب ہم پانی پت سے روانہ ہو کر قادیان مقدس پہنچے تو عرفانی صاحب تو اپنے گھر چلے گئے اور خاکسار سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان خانہ میں ٹھہرا۔حضرت مقدسہ مطہر ہ ام المومنین رضى الله تعالى عنها وارضاها بدرجاتها الرفيعة في الجنة العالية العلیه ) نے فرمایا کہ