حیات قدسی — Page 261
عرض حال یعنی سوانح حیات حضرت مولانا غلام رسول صاحب فاضل را جیکی مبلغ سلسله عالیہ احمدیہ کا حصہ چہارم قارئین کرام کی خدمت میں خلاصہ پیش ہے۔اس کا پہلا حصہ جناب سیٹھ علی محمد۔اے الہ دین صاحب سکندر آباد نے ۲۰ جنوری ۱۹۵۱ء کو شائع کیا تھا ، جس کے متعلق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے فرمایا کہ:۔واقعات بہت دلچسپ ہیں اور جماعت میں روحانیت اور تصوف کی چاشنی پیدا کرنے کے لئے خدا کے فضل سے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔یہ کتاب اس انداز کی ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکبر خاں صاحب نجیب آبادی کو اپنے سوانح املاء کرائے تھے۔“ کا دوسرا حصہ یکم ستمبر ۱۹۵۱ء کو جناب سیٹھ صاحب نے شائع فرمایا۔اس کے متعلق | سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے مندرجہ ذیل رائے ارشاد فرمائی۔یہ ایک روح پرور تصنیف ہے۔خدا تعالیٰ جماعت کے لئے مبارک کرے۔“ تیسرا حصہ جنوری ۱۹۵۴ء میں جناب سیٹھ محمد معین الدین صاحب حیدر آباد دکن کے زیر اہتمام شائع ہوا۔جس کے متعلق حضرت میاں صاحب دام ظلہم نے اپنے خط بنام حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی میں تحریر فرمایا : - آج آپ کا رسالہ حصہ سوئم مرزا عزیز احمد صاحب نے لا کر دیا اور میں نے پڑھنا شروع کر دیا ہے۔مبارک ہو بہت روح پرور مضامین ہیں۔ایسی کتابوں کی احمدیوں اور غیر احمدیوں میں بکثرت اشاعت ہونی چاہیئے۔مناظرانہ باتوں کی نسبت اس قسم کے روحانی مذاکرات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی عمر اور علم میں برکت عطا کرے۔“ کتاب کے یہ حصص اگر چہ تھوڑی تعداد میں شائع ہوئے لیکن خدا کے فضل سے بہت سے غیر احمدی احباب نے ان کو پڑھ کر سلسلہ حقہ کے متعلق اچھا اثر لیا اور بعض کو احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق بھی ملی۔اسی طرح بہت سے احمدی احباب نے ان کتابوں سے روحانی فائدہ حاصل کیا۔