حیاتِ نور — Page ix
اول ـور مجھے کوئی ایسا مددگار عطا فرمائے۔جو میرا دست و بازو ہو کر کام کر سکے۔چنانچہ جب حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔تو انہیں دیکھتے ہی حضور کے دل سے یہ صد انکلی۔کہ: هذا دُعائي یعنی یہ مرد مومن میری دعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ ہے!“ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی ارفع شان اور علم کی گہرائی اور خداداد بصیرت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی ابھی بچہ ہی تھے۔کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق وثوق کے ساتھ فرمایا۔کہ یہی ہونے والا مصلح موعود ہے، میں نے شیخ عبد القادر صاحب کی اس کتاب کو کہیں کہیں سے دیکھا ہے۔مگر میں امید کرتا ہوں۔کہ خدا کے فضل سے یہ کتاب بھی قریباً قریباً اس شان کی کتاب ہوگی۔جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوانح میں لکھی ہے، مجھے یقین ہے کہ دوست اس مفید کتاب کی اشاعت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں گے۔تاکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے انوار قدسیہ سے زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کر سکیں۔خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه