حیاتِ نور — Page 582
اتِ نُ بد کردار اور دوسروں کو خراب کرنے والے لڑکے یہاں نہ آویں اور اگر آدیں تو خدا تعالیٰ انہیں تو بہ نصیب کرے۔اصل غرض اس مدرسہ کی ہی ہے کہ یہاں سے متقی اور صالح بچے دنیا میں پھیلیں“۔اس کے بعد دعا ہوئی۔دعا کے بعد فرمایا: ”میں نے تمہارے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے سب کے واسطے دُعا کی ہے۔اس کے بعد حضرت صاحب بورڈنگ میں تشریف لائے۔جہاں اکبر شاہ خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ) اپنے بہادروں کے ساتھ پہلے پہنچ چکے تھے اور سب نے گیسٹ پر حضرت صاحب کو اہلاً و سہلاً و مرحبا تین بار کہا۔حضرت نے چند کمرے دیکھے اور گاڑی میں واپس تشریف لائے۔جناب ایڈیٹر صاحب "بدر دعا کے وقت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: دعا کے وقت کا سماں قابل دید تھا۔مبارک ہیں وہ جنہیں اس میں شمولیت نصیب ہوئی۔اللہ تعالٰی استقامت عطا کرے۔یہ وہ قادیانی گھڑیاں ہیں جن کی خاطر باہر کی سب دوستیں چھوڑ کر مہاجرین بیٹھے ہیں۔ایسی نعمت آج مشرق و مغرب میں اور جگہ نہیں لے گورنمنٹ کی تعمیر میں امداد امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ نے بھی اس مدرسہ کی تعمیر کے لئے نہیں ہزار کی خطیر رقم دینے کا وعدہ فرمایا۔اور ۲۷ فروری ۱۹۱۳ء کے پرچہ بدر میں لکھا ہے کہ گورنمنٹ نے اس میں سے پندرہ ہزار رو پیدا وا کر دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی مساعی جمیلہ کے ماتحت نو جوانوں کا عربی زبان میں تقریر کرنے کی مشق کرنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جہاں صدر انجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے اور دیگر جماعتی کاموں میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔وہاں مدرسہ احمدیہ کے بھی انچارج تھے اور طالب علموں کی فلاح و بہبود میں ہمیشہ ساعی رہتے تھے۔آپ نے عربی زبان کو ترویج دینے کے لئے ایک ایسی انجمن بنائی ہوئی تھی جس کے تمام ممر عربی زبان میں تقریر کرنے کی مشق