حیاتِ نور — Page 426
۴۲۲ حضرت خلیفہ اسی کے انضباط اوقات کو اجمالی رنگ میں میں ایک ہی فقرہ میں ادا کر سکتا ہوں کہ تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ میں آپ کا وقت گزرتا ہے مگر اس کی کسی قدر تفصیل یہ ہے کہ حضرت حجتہ الاسلام حضرت امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام کی عصری زندگی میں بھی اگر چہ آپ ہی امامت کراتے تھے مگر جب مولوی عبد الکریم صاحب آئے تو وہ صرف چھوٹی مسجد میں امام ہو جاتے تھے۔پھر مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد چھوٹی مسجد میں نمازوں کے امام آپ ہی تھے۔یہ امر یہاں ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت حکیم الامہ طبعاً نا پسند کرتے تھے ایسے امور کو جو کسی قسم کے لیڈرشپ پر دال ہوں اس لئے آپ نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اپنی جگہ مقرر کیا ہوا تھا اور خوش رہتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ کو چونکہ آپ کو امام بنانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور راہ نکالی۔پس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بعد مجبور آپ کو امام ہونا پڑا۔اور اب دوسرے رنگ میں امام ہو کر باوجود ضعف اور آئے دن ہدف امراض کے آپ اپنے سید و مولیٰ مقتدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر نمازوں کے امام خود ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ گھر پر بعد نماز صبح آپ کے قرآن مجید کے کئی درس عورتوں میں ہوتے ہیں جو سبتا پڑھتی ہیں۔پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ومحمد اسحاق کی تعلیم کی طرف خصوصیت سے توجہ ہے۔ان کے کئی سبق آپ نے اپنے ذمہ رکھتے ہیں۔ایک گھنٹہ سبق سے پہلے چند مریضوں کو ضرور دیکھتے ہیں جو باہر سے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ہا ہر حدیث اور قرآن مجید اور اصول فقہ کا درس جاری ہے۔دعاؤں میں آپ کا بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔میں نے غور سے دیکھا ہے۔ہاں اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ جب آپ کے پاس ڈاک آتی ہے تو ایک ایک خط کو آپ اپنے ہاتھ میں لے کر دعا کرتے ہیں۔" پھر یہ سلسلہ ایسا وسیع ہے کہ نمازوں میں اور درس قرآن مجید کے بعد جیسیوں عرضیاں دعا کی آپ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ایک ایک کو پڑھ کر ان کے