حیاتِ خالد — Page 911
حیات خالد 893 ناقابل فراموش شفقت کے چند نمونے حضرت مولانا نے تحریر فرمایا :- وو متفرقات سیدی حضرت میرزا بشیر احمد صاحب کو خدمت دین کرنے والوں سے جو الفت تھی اور ان سے آپ کا شفقت اور رافت کا جو خاص سلوک ہوتا تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ارشادات سے ہو سکتا ہے جو آپ نے اس ناچیز خادم کے سلسلہ میں تحریر و تقریر میں بیان فرمائے۔بعض ارشادات تو پہلے درج ہو چکے ہیں چند مزید درج ہیں :- 0 وو رسالہ الفرقان کے ” حضرت حافظ روشن علی نمبر میں تحریر فرمایا کہ : - " مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ رسالہ الفرقان کے موجودہ ایڈیٹر محترم مولوی ابوالعطاء صاحب کے متعلق ان کی طالب علمی کے زمانہ میں فرمایا کہ یہ نوجوان خرچ کے معاملہ میں کچھ غیر محتاط ہے مگر بڑا ہونہار اور قابل توجہ اور قابل ہمدردی ہے۔کاش! اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابو العطاء صاحب اور محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے شاگردوں کے ذریعہ میری یا دزندہ ہے“۔0 تحریر فرمایا :- ( الفرقان حضرت حافظ روشن علی نمبر۔دسمبر ۱۹۶۰ء) رسالہ الفرقان کے حضرت میر محمد اسحاق نمبر ' کے متعلق حضرت میاں صاحب نے "رسالہ الفرقان کا ایک خاص نمبر نکلا ہے جس میں ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم کے حالات درج ہیں اور مختلف اصحاب نے ان کے ذکر خیر کے رنگ میں ان کے بعض دلکش اوصاف اور حالات تحریر کئے ہیں۔الفرقان کا یہ نمبر خدا کے فضل سے بہت ہی مبارک ہے جس نے نہ صرف حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم کی یاد تازہ ہوتی ہے بلکہ ان کی بے شمار نیکیوں اور خوبیوں کی وجہ سے نیکی کی بھی غیر معمولی تحریک پیدا ہوتی ہے۔حقیقتا الفرقان کا یہ خاص نمبر بہت ہی قابل قدر ہے اور جماعت میں اس کی جتنی بھی اشاعت ہو کم ہے۔میں اس قابل قدر خدمت پر محترم مولوی ابو العطاء صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں۔جزاہ اللہ احسن الجزاء في الدنيا والآخرة 0 میری بیٹی عزیزہ امتہ الباسط سلمہا اللہ کی تقریب رخصتانہ کے موقعہ پر حضرت میاں