حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 852 of 923

حیاتِ خالد — Page 852

حیات خالد 833 گلدستۂ سیرت چونکہ میں شادی کے بعد افریقہ چلی گئی تھی اور تین تین سال کے وقفہ سے ملاقات ہوتی تھی۔اس عرصہ میں ابا جان مجھے خط بکثرت اور باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔گو یا خطوں سے ہی آدھی ملاقات ہوا کرتی تھی اور چھوٹی چھوٹی باتیں جو دلچسپ اور میری ذات سے تعلق رکھتی تھیں لکھا کرتے تھے۔مثلاً آج تمہاری امی جان نے ایک من گندم صاف کی تو سر درد ہو گیا۔اور یا یہ کہ تمہاری فلاں سہیلی یہ سمجھ کر تمہیں ملنے آئی کہ تم ابھی ربوہ میں ہی ہو اور تمہارے لئے یہ تحفہ چھوڑ گئی ہے کسی جانے والے کے ہاتھ بھجوا دوں گا۔کبھی لکھتے تمہاری گڑیوں اور ہنڈ کلیوں سے تمہاری چھوٹی بہنوں کو کھیلتے دیکھا تو تم بہت یاد آئیں۔کبھی اپنی تازہ تصویر یا بہن بھائیوں کی تصاویر بھجواتے اور مجھ سے فرمائش کرتے کہ تم بھی گروپ فوٹو بھیجو۔یہ بھی لکھتے کہ اگر چہ میں تمہیں بہت یاد کرتا ہوں مگر خوش ہوں کہ تم خوش ہو اور دعائیں کرتا ہوں۔ایسے خطوں کا ایک سلسلہ تھا جو مسلسل پندرہ سال تک جاری رہا۔اور آخری خط بھی جو مجھے ملا وہ آپ ہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اور اسی روز آپ کی وفات کی خبر بھی ملی۔اس کے بعد ہم لندن سے افریقہ واپس چلے گئے کیونکہ افتخار صاحب نے ایم اے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی تھی وہاں واپس جا کر یہ عجیب بات ہوئی کہ مجھے پھر سے سبز رنگ کے ایئر لیٹرز کا انتظار لگ گیا۔نہ جانے کیوں ایسا تھا ؟ مگر ہر روز جب ڈاک آتی تو میں پاکستان کی ڈاک کا پوچھتی۔افتخار صاحب حیران ہوتے کہ کیا بات ہے؟ آپ کو اب کس کے خط کا انتظار ہے ابا جان تو فوت ہو گئے ہیں۔جو آپ کو اتنی کثرت اور باقاعدگی سے خط لکھا کرتے تھے۔مگر میں خاموش ہو جاتی اور دل میں چھپی ہوئی آس نہ بتا سکتی۔آخر ایک دن میری بے قراریوں کو قرار مل ہی گیا۔ڈاک کے ایک بنڈل میں ایک سبز رنگ کا ایئر لیٹر آ گیا۔یہ میرے ابا جان ہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔اور پانچ سال پہلے کا تھا۔مگر آج ملا۔میں خط پا کر بے حد خوش ہوئی اور یوں مطمئن ہو گئی جیسے مجھے اسی کا انتظار تھا۔اس کے بعد کبھی مجھے کسی خط کا انتظار اس طرح نہیں ہوا۔گویا یہ ایک پیار ہی تھا جو تڑپا تا اور بار بار بے چین کرتا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے میری پیاس دور کر دی اور اب دعاؤں سے لبریز یہ خط میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہے۔ه مکرم ملک محمد حنیف صاحب مرحوم لکھتے ہیں :- محترم مولانا ابو العطاء صاحب میرے پھوپھی زاد بھائی تھے اور میری بڑی ہمشیرہ آپ کی زوجہ اولی تھیں۔پھر یہ رشتہ اس طرح مزید مستحکم ہوا کہ آپ کی عزیز بہن محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ میرے عقد میں آئیں اور تعلقات کے تسلسل کی خاطر محترم بھائی صاحب نے اپنے بیٹے عزیز عطاء الرحیم حامد کی شادی