حیاتِ خالد — Page 847
ایک دل گداز تحریر يم ابن الأمر الصح استعمال تو ہی اکیلا اسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق ہے اور تیری معرفت ہی زندگی کا مقصد کے میں تیرا ایک نہایت ہی ناکارہ گناہگار اور خود فراموشی بندہ ھوں۔میرے حال پر رحم فرما۔اور آج تک ها تمام گناه، سب خانئیں ، ساری نفری ، اور ساس - کل بے اعتدالیاں معاف فرما۔ان و بد اثرات اور یہ نتائج سے محفوظ رکھے۔میرے برے افعال اور گندے اخلاق اور زہریلے اثرات سے تمام بنی نوع کو بالعموم اور میرے متعلقین ، اہل عیال اور میری جان کو بالخصوص ہی۔ا میرے رب ! میں تیر اما جز بندہ ھوں۔میں آج مسجد مبارک میں اک ! مقام ہو مجھے کر جو تیرے پیارے بندے صورت مسح والله الله کے مقام جو بیٹھنے کا کام ہے۔کچھ اب خضار وستارے اپنے گنے والی انسانی جاتا 20 ھوں۔اور آئندہ تھے جتنے لمحات میری زندگی باقی ہیں ان میں محض تیرہ رمضا وہ ائے ہر ایک کام کرنے کا عید کرتا ھوں۔سب انسان اور ان کی رضا فانی تھے۔تیری ذات عالم الجنب اور باقی ہے۔کہیں تو اپنے اس ناتوان اور لڑکھڑاتے عاجز نہے کی دستگیری فرما۔اور اس کو ہمیشہ مرتے ریا کاری اور انائیت ، تکبر سے محفوظ رکھے۔خادم این بنا۔اسکی اولاد کو سکی آنکھوں کا منہ اک بنا۔به خدا بهہ اہم ہرے تھے نا مکن نہیں کر ترے 20 ہر آن ہے تو خدا صبح تیرا بندہ ھوں۔تو میری بندگی کی لاج رکھ لے اور