حیاتِ خالد — Page 593
حیات خالد 587 ذاتی حالات بانہال کی بلند چوٹی پر چڑھتے ہوئے:۔وو میرے پیارے خدا کا جلال اور اس کی بلند ترین شان کا ظہور ہو۔دنیا میں اس کی تو حید چپکے اور پھر نسل آدم اسی کے آستانہ پر جبینوں کو جھکا دے۔آمین احمدیت کی کشتی کا ناخدا صرف خدا ہے مگر اسی کی مدد سے اس وقت ہمارا پیارا آقا اور خدائے بزرگ و برتر کا ممسوح حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ جماعت کا امام و پیشوا ہے۔اللہ آپ کی صحت و عافیت میں برکت دے۔آپ کی عمر دراز فرمائے اور حضور کو احمدیت کا یوم الظهور اسی دنیا میں دکھائے اور مجھے اور میری نسل کو تا قیامت احمدیت و اسلام کا سچا اور مخلص خادم بنائے۔اللهم آمين يا رب العالمين - اے خدائے کریم وغفور ! تو میرے گناہ بخش اور مجھے ، میری سعیدہ، میری بچیوں ، بچوں ، بہنوں اور بھائیوں کو ہمیشہ اپنی آغوش رحمت میں رکھیو۔پیارے تجھ سے ہی امید ہے اور تیرے ہی فضل پر میرا بھروسہ ہے تو اپنے خاص فضل سے میرے والد اور میری والدہ کے جنت الفردوس میں درجات بلند کر۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔پیارے! اے رحمن ! اے کریم ! اے رحیم ! اپنی عطاؤں کی خود تربیت فرما۔آمین ثم آمین۔عاجز ناکارہ بندہ ابو العطاء جالندھری مقام درہ بانہال کی بلند ترین چوٹی ۱۹۴۲ء۔۹۔۷ بوقت ساڑھے تین بجے بعد دو پہر ☆۔۔۔۔۔۔☆ آج میں کوئٹہ کی احمد یہ مسجد میں اعتکاف میں ہوں۔آج ۲۱ رمضان المبارک ۱۳۶۹ ہجری کی شب ہے۔اڑھائی بجے صبح بیدار ہوا۔نیند غالب آنے کو تھی۔کہ نہایت سریلی بانسری کی لے سنائی دی۔وضو کر کے آستانہ ایزدی پر سر بسجو د ہو گیا۔ابو العطاء سے جولائی ۱۹۵۰ء آج ۱۳/ اگست ۱۹۵۱ ء ہے آج پیر کا دن ہے اس وقت جب کہ سورج غروب ہو چکا ہے اور و زوالقعدہ ۱۳۷۰ھ کا چاند افق مشرق پر چمک رہا ہے میں ایک ساتھی کے ساتھ موضع کالی مٹی