حیات بشیر

by Other Authors

Page 96 of 568

حیات بشیر — Page 96

96 مجوزہ احمدیہ یونیورسٹی کا ڈھانچہ مئی ۳۵ء میں جناب قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے نے جو ”سب کمیٹی برائے تجویز احمد یہ یونیورسٹی کے سیکرٹری تھے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو لکھا کہ کمیٹی کا کام شروع کرنے کیلئے نظارت ایک رپورٹ مرتب کر دے اسکے بعد مجوزہ کمیٹی کام شروع کر سکے گی چنانچہ وسط جون ۳۵ء میں آپ نے احمدیہ یونیورسٹی کیلئے ایک ڈھانچہ مرتب کر کے سیکرٹری صاحب کو بھجوا دیا۔۲۱۵؎ بعض سابقہ تصانیف کا دوسرا ایڈیشن چونکہ آپ کی سابقہ تصنیفات سيرة خاتم النبيين حصہ اول اور سیرۃ المہدی حصہ اوّل عرصہ سے ختم ہوچکی تھیں اور ان کی مانگ زیادہ تھی اس لئے ۳۵ء میں ان ہر دو کتب کا دوسرا ایڈیشن چھپوانے کیلئے ان کتابوں کی نظر ثانی کی گئی اور مناسب جگہوں پر مضامین کی اصلاح اور کمی بیشی کی گئی اور بعد تحقیق ضروری حوالہ جات بڑھائے گئے۔بالخصوص سيرة خاتم النبيين حصہ اول میں کافی اضافہ کیا گیا جس سے یہ کتاب ایک طرح سے گویا نئی کتاب بن گئی۔یہ دونوں کتابیں ۳۵ء میں شائع کر دی گئیں۔217 ”پیغام صلح“ اور ”ابنائے فارس“ کے ترجمہ پر نظر ثانی اسی سال آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ”پیغام صلح کے انگریزی ترجمہ پر نظر ثانی فرمائی۔اسی طرح مکرم صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔اے کے انگریزی رسالہ ابنائے فارس“ پر بھی آپ نے نظر ثانی فرمائی۔مسئله غلامی پر بحث ۲۱۷ پ نے اپنی تصنیف سيرة خاتم النبیین حصہ دوم میں مسئلہ غلامی پر جو بحث فرمائی تھی کا دوران سال میں حضرت مولوی شیر علی صاحب نے انگریزی ترجمہ کیا اور آپ نے نظر ثانی فرمائی۔اس کے بعد مئی ۳۵ء میں اسے اسلام اور غلامی“ کے نام سے ایک رسالہ کی صورت میں علیحدہ شائع کر دیا گیا۔۲۱۸ ملفوظات حضرت مسیح موعود اور محامد خاتم النبیین کی تیاری آپ نے ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت سے جو عظیم الشان کام سر انجام دیے ان میں ایک اہم کام یہ ہے کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات کا مجموعہ تیار کرانے کا کام اپنی نگرانی میں شروع فرمایا۔جس کی پہلی جلد دسمبر ۳۶ء میں شائع ہوئی۔اسی طرح آپ ہی کی تحریک دو