حیات بشیر

by Other Authors

Page 499 of 568

حیات بشیر — Page 499

499 صبح نو لایا تھا جو نجم سحر ڈوب گیا محترم جناب عبدالمنان صاحب ناهید ) آج اک اور غریبوں کا سہارا ٹوٹا ستارا ٹوٹا اور اک چرخ محبت کا ایک طوفان سا اُٹھا ہے خدا خیر کرے دیکھتے دیکھتے دریا کا کنارا ٹوٹا میں نے ہر نیکی پہ پایا تھا اسے پا بہ رکاب وہ خلوص اور مروّت وہ اصول اور صواب کس توجہ سے بتایا مری تکلیف کا حل کس محبت سے دیا مرے خط کا جواب مجھکو اس کی تقریر جنوں اور تھی تحریر فسوں ہائے کیا چیز تھی اس سینہ صافی کے دروں اس کی وہ پیار بھری نظریں نہ بھولیں گی کبھی اس کے افکار کی تابندگی ہو گی افزوں تھا جو گھر مجھ سے فقیروں کا وہ گھر بھی نہ رہا جس سے خالی نہ کبھی لوٹے وہ در بھی نہ رہا میرے اشعار یہ کی حوصلہ افزائی مری ہائے افسوس کہ وہ حسن نظر بھی نہ رہا علم و ایمان سے اس کے رہے تاباں شب و روز اس کا تھا حسن بیاں حسن عمل حسن فروز بارہا محفل ارباب کو گرماتا رہا عشق محبوب میں ڈوبی ہوئی آواز کا سوز