حیات بشیر

by Other Authors

Page 420 of 568

حیات بشیر — Page 420

420 تجر علمی چھٹا باب آپ کی علمی خدمات صحیح اور حقیقی علم کا سرچشمہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے اس لئے جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں آتے ہیں تو معلم ازلی کی گود میں تربیت پانے کی وجہ سے جو بات اُن کے قلم یا مونہہ سے نکلتی ہے بعد میں آنے والوں کے لئے وہ ایک سند کا حکم رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ”سلطان القلم" کا خطاب دیا تھا اور حضرت صاحبزادہ صاحب آپ کے صلبی بیٹے اور رُوحانی شاگرد تھے۔آپ کی علمی اور فکری خصوصیات اس قدر اعلیٰ اور نمایاں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا تھا کہ ” يُنَيّرُ بُرْهَانَكَ “ یعنی یہ شخص اس قدر شاندار دینی خدمات سر انجام دے گا کہ اس کے افاضات قلم کے ذریعہ جو مضامین صفحہ قرطاس پر آئیں گے ان سے آپ کی برھان واضح اور روشن ہو جائے گی۔عربی زبان میں بُرہان کے معنی ہیں ”حجت قاطعہ“ یعنی ایسی حجت جس کے پیش کرنے سے زیر نظر مسئلہ ایسے دلائل اور براہین کے ساتھ واضح اور روشن ہو جائے کہ نہ صرف یہ کہ قاری کے دل میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے بلکہ اس کی پوری طرح تسلی اور تشفی ہو جائے سو اس پہلو کے لحاظ سے جب ہم حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کی تصانیف کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ جس مسئلہ پر بھی آپ نے قلم اُٹھایا ہے اسے ایسے آسان اور دلنشین پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آسان مسئلہ کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں۔پھر آپ کی تحریر میں اس قدر جذب اور اثر پایا جاتا ہے کہ جو بات آپ بیان فرماتے ہیں وہ دل کی گہرائیوں میں اُترتی چلی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے جو بیش قیمت لٹریچر اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ رہتی دنیا تک لوگوں کو درس ہدایت دیتا رہے گا۔سيرة خاتم النبيين آپ کی سب سے شاندار اور اہم تصنیف ” سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم “ ہے۔اس بے نظیر تصنیف کو گو مکمل طور پر آپ دنیا کے سامنے پیش نہیں فرما سکے مگر جس قدر حصہ بھی آپ نے 66