حیات بشیر

by Other Authors

Page 109 of 568

حیات بشیر — Page 109

109 ہو گئی۔۲۴ ستمبر کو آپ کا جنازہ قادیان پہنچایا گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو چند دن قبل ڈلہوزی تشریف لے گئے تھے۔تحریر فرمایا: ”جب سے میں ڈلہوزی آیا ہوں منذر خواہیں دیکھتا کہ پریشانی کی حالت میں فوراً سفر کرنا پڑا ہے۔آخری خواب والی رات زیادہ توجہ سے دعائیں کیں۔تو صبح کے قریب مجھے آواز آئی ”السلام علیکم اس سے میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ مراد تھی کہ یہ منذر خواہیں میری ذات کے متعلق نہیں تھیں۔دوسرے السلام علیکم کے جمع کے صیغہ میں یہ اشارہ تھا کہ خاندان کے بہت سے افراد کو خطرہ پیش آئیگا مگر اللہ تعالیٰ بحیثیت مجموعی کثیر حصہ کی حفاظت رکھے گا اور مرحومہ کے نیک انجام کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے۔۱۔جلسہ سالانہ میں آپ کی خدمات ۲۷۱ جلسہ سالانه ۱۴۵ء کے موقعہ پر آپ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کوآرڈینیٹنگ آفیسر (یعنی رابطہ افسر مقرر گئے گئے۔۲۷۲ انصار اللہ کا مقام ذمہ داری ۲۵ / دسمبر ۲۵ ء کو آپ نے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجلاس کیلئے ”انصار اللہ کا مقام ذمہ داری“ کے موضوع پر ایک مقالہ تحریر فرمایا جو آپ کی علالت کے باعث چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر نے پڑھ کر سنایا۔۳۔الیکشن کی نگرانی جنوری 9ء میں محترم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے حلقہ مسلم تحصیل بٹالہ کی طرف سے امید وار اسمبلی کے طور پر کھڑے ہوئے۔انتخابات یکم فروری سے ۱۴؍فروری تک ہوئے۔الیکشن کی نگرانی کا کام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سپرد ہوا جسے آپ نے اس توجہ اور انہماک کے ساتھ سرانجام دیا کہ ایک دفعہ جب حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک ایسا نقشہ تیار کرنے کی ہدایت فرمائی جس سے یہ ظاہر ہو کہ قادیان میں کتنے ووٹر حاضر ہیں۔کتنے غیر حاضر ہیں۔کتنے فوت شدہ ہیں۔کتنے باہر ہیں جن کے آنے کی امید ہے اور کتنے ایسے ہیں جن کے آنے کی کوئی امید نہیں تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سب محلوں کے پریذیڈنٹوں کو بلا کر ساری رات بیٹھ کر نقشہ تیار کروایا۔۲۷۴ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صاحبزادی نہیں بلکہ آپ کی صاحبزادی امتہ السلام بیگم صاحبہ مکرم مرزا رشید احمد صاحب کی بیٹی یعنی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی نواسی تھیں۔