حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 87 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 87

حیات بقا پوری 87 لو ہا بلکہ ہر ایک چیز کے لیے نازل ہونے کے الفاظ بھی آئے ہیں۔عربی میں نزیل مسافر کو کہتے ہیں کیا یہ سب چیزیں آسمان سے اترا کرتی ہیں؟ اور ابن مریم کے ہی مہدی ہونے کے عقیدہ میں حضرت امام بخاری بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں اسلیئے انہوں نے وامامکم منکم والی حدیث بیان کرنے کے بعد مہدی کا باب ہی نہیں باندھا۔ورنہ ان کا طریق عمل یہ ہے کہ جس حدیث سے دو تین باتیں ثابت ہوں اسے علیحدہ علیحدہ کئی بار الگ الگ بابوں میں لاتے ہیں۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ دھوئے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔اس حدیث کو امام بخاری تین بار لائے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے بارہ میں حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے کئی جگہ اپنانے سب ظاہر کر دیا۔چنانچہ کتا تو نیکی (۱۱۸:۵) والی آیت کو تفسیر القرآن کے باب میں لا کر اور اسی جگہ مونیک اسی میمیک کی تغیر جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے دونوں ایک جگہ ذکر کر کے پھر وما محمد الا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرسل (۱۴۵:۳) کے متعلق حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تمام انبیاء کرام کی وفات اور موت پر استدلال اور تمام صحابہ کرام کا اس پر اجماع پھر ہر دو مسیحوں کا علیحدہ علیحدہ حلیہ ذکر کر کے پھر معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت بیچی علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی جگہ دیکھنے کا بیان۔یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ امام بخاری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتے تھے اور ابن مریم کے ساتھ مسیح محمدی کی مماثلت بخاری شریف کی ابتدائی حدیث سے ظاہر ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کی تبلیغ میں مماثلت کے باعث این ابی کبشہ کہا گیا ہے۔-۴۵ حدیث عیسی ابن مریم کے نزول میں تاویل ایک دفعہ مسجد احمد یہ سرگودھا میں میری اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریریں ہوئیں۔حضرت مفتی صاحب کی تقریر میں ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے جونا بینا تھے اعتراض کیا کہ حدیث میں تو عیسی ابن مریم کے آنے کا ذکر ہے تم لوگ مثیل عیسیٰ کیسے مراد لیتے ہو؟ حالانکہ نص صریح میں تاویل نہیں چاہیے بلکہ حمل علیٰ ظاہر ہونا چاہیے۔بہت سمجھایا لیکن حافظ صاحب انکار پر اصرار کرتے رہے۔آخر ہم نے کہا اگر ہر جگہ ظاہری معنے ہی درست ہیں تو کیا اس آیت کے ظاہری معنے درست ہوں گے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَن كَانَ فی هذِهِ اظمى فهو في الأخيرة انمی و انك سينا (۷۳۰:۱۷) جو اس جہاں میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا بلکہ تخت