حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 8 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 8

حیات بقا پوری 8 غرض ہمارا خاندان شروع سے خدا تعالیٰ کے فضل سے دیندار اور علم کا شائق چلا آرہا ہے۔خاندان میں اچھے اچھے عالم پیدا ہوتے رہے ہیں۔حضرت اور نگ زیب کے دربار میں ہمارے مورث اعلیٰ حافظ سعد اللہ صاحب درباری تھے اور چوہدری محمد سعید صاحب نے ایک ہزار فقہی مسائل پر مشتمل ایک کتاب جس کا نام انہوں نے ”ہزاری" رکھا تھا تالیف کی تھی۔اس کے خاتمہ پر مندرجہ ذیل عبارت تحریر شدہ تھی۔بدست فقیر میر محمد سعید عرف جالب تحریر نمود ۱۱۲۴ ہجری افسوس کہ یہ کتاب غیر مطبوع ہونے کے باعث اب کہیں تلف ہو گئی ہے۔چوہدری محمد سعید صاحب جیسا کہ پرانے کاغذات سے معلوم ہوتا ہے ۱۵ ہجری میں اپنے تہیال کی زمین پر بقا پور آئے اُن کا بیٹا شیر محمد بڑا مشہور عالم اور زمیندار تھا جب گاؤں کے سکھوں نے ہماری زمین زبر دستی چھین لی تو چوہدری شیر محمد صاحب خود مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار سے مندرجہ ذیل حکم نامہ لے آئے اور اپنی زمین حاصل کر لی۔قطبا ذیلدار حمید پور بداند اعلام کہ بورڈد پروانہ مزاحم آئمہ (جاگیر، ناقل) میاں شیر محمد نباشند دوا ہے منظور خاطر عاطر عالیست دا گر فرق و مزاحمت کردند دستک صادر خواهد شد در میں باب تاکید مزید دانسته حسب المسطور آرند تحریر سمت ۱۸۷۳ بکرمی (ترجمه) (مهر) دار العدالت رنجیت سنگھ ۱۸۶۹ء قطب ذیلدار حمید پور کو معلوم ہو کہ سر کار عالی مدار کا منشاء مبارک یہ ہے کہ حکم ہذا کے پہنچنے کے بعد کوئی شخص میاں شیر محمد کی جاگیر کا مزاحم نہ ہو اور اگر کوئی مزاحمت کرے گا تو مستوجب سز ا ٹھہرے گا۔اس معاملہ میں مزید تاکید جائیں اور حسب الحکم اس فیصلے پر عمل کریں۔تحریر سمت ۱۸۷۳ بکرمی (مهر) دار العدالت رنجیت سنگھ ۱۸۶۹ء