حیاتِ بقاپوری — Page 6
حیات بقاپوری 6 خاندانی حالات:- ہمارے بزرگ ابتداء میں موضع یقین وال ضلع جہلم میں بود و باش رکھتے تھے۔وہاں سے ہمارے مورث مولوی محمد سعید صاحب جالب کھو کھر نے ۱۵۶ ہجری میں اپنے تھال موضع بقا پور میں رہائش اختیار کر لی۔الحمد للہ۔اللہ کا فضل ہے کہ ہمارا خاندان نیک اور متقی چلا آیا ہے اور علم دین سے ہمیشہ مرقع رہا ہے۔چوہدری بڑھا جو میرے وادا تھے اُن کے چار بیٹے تھے۔امام الدین، چراغ دین شمس الدین، صدرالدین۔امام الدین اور چراغ دین اچھے لکھے پڑھے اور فارسی دان تھے۔چراغ دین مرحوم اپنی بیوی کے فوت ہو جانے کیوجہ سے ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔مکرم تا یا چراغ دین صاحب مرحوم بہت نیک ولی اللہ بزرگ تھے۔اکثر حصہ رات کا وہ مسجد میں نفل پڑھتے گزار دیتے اور جو مسافر آتا خواہ آدھی رات ہوتی تو والدہ صاحبہ مرحومہ کو کہتے کہ تازہ روٹی پکا کر دو۔چنانچہ وہ بڑی خوشی سے حکم کی تعمیل کرتیں۔ہمارے تایا نے ۱۸۸۴ء میں وفات پائی۔اُن کی وفات پر میری والدہ مرحومہ نے فرمایا کہ یہ کہتے تھے کہ ابراہیم تمہارے گھر ایک نور لائے گا جسے تم وقت پر سمجھ لو گے۔اس سے مراد اُن کی نوراحمدیت تھی کیونکہ میں اللہ تعالٰی کے فضل سے اپنے خاندان میں پہلا احمدی ہوں۔ہمارے والد چوہدری صدرالدین صاحب اپنے باپ کے ساتھ ہی کا شتکاری کرتے تھے اور ہماری والدہ