حیاتِ بقاپوری — Page 315
حیات بقاپوری 315۔یہ خواب نہ تھا بیداری تھی۔میری آنکھیں کھلی تھیں۔میں درودیوار کو دیکھتا تھا۔کمرے کی چیزیں نظر آ رہی تھیں۔میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے۔نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہا ء۔اُس نو ر میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا۔جس کے بعد معا مجھے آرام ہو گیا۔اور کوئی تکلیف نہ رہی۔اس قدر حصہ میں نے سُنایا تھا۔اس کا دوسرا حصہ اس وقت میں نے نہیں سُنایا۔اب سُنا تا ہوں۔وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معا میری زبان سے نکلا: میری اُمت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی میری اُمت کوئی نہیں۔تم میرے بھائی ہو۔مگر اس نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود کو ہے یہ فقرے نکلے۔جس کام کو مسیح موعود نے جاری کیا، اپنے موقعہ پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے پس دعا ئیں کرو اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور بار بار سُنا کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے۔مل کر کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں۔پھر کہتا ہوں۔اور پھر کہتا ہوں۔اب جو تم نے بیعت کی ہے۔اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود کے بعد قائم کیا ہے۔اس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھا ؤ اور مجھے اپنی دعاوں میں یا درکھو۔میں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ہاں یا درکھتا بھی رہا ہوں۔کوئی دعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جسمیں میں نے سلسلہ کے افراد کے لئے نہ کی ہو۔مگر میں اب آگے سے بھی بہت زیادہ یا درکھوں گا۔مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دعانہ کی ہو۔پھر سنو کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ہماری دعائیں یہی ہوں کہ ہم مسلمان جئیں اور مسلمان مریں۔آمین۔الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲-۳) اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔اس کے ساتھ میں یہ لکھنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب کا وہ ٹریکٹ جو انہوں نے حضرت خلیفہ ایسی اول کی وصیت کو پڑھ کر لوگوں کو شنا کر جب نواب محمد علی خاں صاحب کو دی تو بجائے اس کے کہ حضرت خلیفہ اول کو کہتے کہ اس میں یہ یہ نقص ہیں اسکے برخلاف خلیفہ اسی اول کوتو کہا ٹھیک ہے۔اور خفیہ ٹریکٹ اس