حیاتِ بقاپوری — Page 283
حیات بقاپوری 283 بھلا کہتی ہیں۔بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی بہت سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں۔حالانکہ وہ اس کے خاوند کے بہت ہی قابل عزت بزرگ ہیں۔وہ اس کو ایک معمولی سی بات سمجھ لیتی ہیں۔اور ان سے لڑائی وہ ایسی ہی سمجھتی ہیں۔جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضا جوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے۔یہاں تک حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کریں تو وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے۔پس جب کہ ایک عورت کی ساس اور سسر کے کہنے پر اس کو طلاق مل سکتی ہے تو اور کون کی بات رہ گئی ہے۔اس لئے ہر عورت کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین کی خدمت میں لگی رہے۔اور دیکھو عورت جو کہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے۔اگر وہ اس کی خدمت کرتی ہے۔تو وہ اس کی پرورش کرتا ہے۔مگر والدین تو اپنے بچہ سے کچھ نہیں لیتے۔وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی جوانی تک خبر گیری کرتے ہیں۔اور بلا کسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں۔اور جب وہ جوان ہوتا ہے۔تو اس کا بیاہ کرتے اور اس کی آئندہ بہبودی کے لئے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بوجھ آپ اُٹھانے اور آئندہ زمانہ کے لئے کسی کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو کس خیال سے اس کی بیوی اس کو اپنے ماں باپ سے جدا کرنا چاہتی ہے۔یا کسی ذراسی بات پر سب و شتم پر اتر آتی ہے۔اور یہ ایک ایسا نا پسند فعل ہے۔جس کو خدا اور مخلوق دونوں نا پسند کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان پر دو ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ایک حقوق اللہ اور دوسری حقوق العباد۔پھر اس کے دو حصے کئے ہیں۔اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسری مخلوق الہی کی بہبودی کا خیال۔اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سسر کی خدمت اور اطاعت۔پس کیا بدقسمت ہے وہ جوان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے۔حقوق اللہ میں نے اس لئے کہا ہے کہ وہ اس طرح خدا تعالیٰ کے حکم کو بھی ٹالتی ہے۔" (احکام ۳۱ مارچ ۱۹ء)