حیاتِ بقاپوری — Page 277
حیات بقاپوری 277 روحانی سے نہ خواہش نفسانی سے بھی کوئی نظم جو خلوق کے لئے مفید ہوسکتی ہے لیکھی جائے۔تو کچھ مضائقہ نہیں۔مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔“ بدر ۲۷ جون ۱۹۰۷ء) ۱۲۹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہیں:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کا پاک اور خوش نما چہرہ دنیا کو نظر نہیں آتا تھا۔اور اب وہ مجھے میں ہو کر نظر آئے گا۔اور آرہا ہے۔کیونکہ اس کی قدرتوں کے نمونے اور عجائبات قدرت میرے ہاتھ پر ظاہر ہورہے ہیں۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں وہ دیکھتے ہیں۔مگر جو اندھے ہیں وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس امر کو محبوب رکھتا ہے کہ وہ شناخت کیا جائے۔اور اس کو شناخت کی یہی راہ ہے کہ مجھے شناخت کرو۔یہی وجہ ہے کہ میرا نام اس نے خلیفہ اللہ رکھا ہے۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت آدم اس میں آدم میرا نام رکھا ہے۔یہ حقیقت اس الہام کی ہے۔اب اس پر بھی کوئی اعتراض کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو خود دکھا دے گا کہ وہ کہاں تک حق پر ہے۔“ (الحکم ۱۰۔اکتوبر ۱۹ء) ۱۳۰ مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں رہنے کی ضرورت اور قیام جلسہ کی غرض:- تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے۔کہ دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے۔اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے۔جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے۔تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو کسی برہان یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دور ہو اور یقین کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے۔سو اس بات کے لئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہیئے۔اور دعا کرنا چاہیے۔کہ خدا تعالیٰ یہ توفیق بخشے۔اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہیئے۔کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پرواہ نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی۔اور چونکہ ہر ایک کیلئے باعث ضعف فطرت یا کمی مقدرت یا بعد مسافت یہ میسر نہیں آسکتا کہ وہ صحبت