حیاتِ بقاپوری — Page 2
حیات بقاپوری پیش لفظ 2 ہمارے دادا حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری (ولادت ۱۸۷۳ء۔وفات ۱۹۶۴ء) رفیق حضرت مسیح موعود علیہ اسلام ، صاحب کشف و الہام بزرگ اور میدانِ عمل میں صف اول کے مجاہد تھے۔جنہوں نے ساری زندگی اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے وقف رکھی۔آپ نے ۱۸۹۱ء میں پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی زیارت کی اور پھر بار بار قادیان جاتے رہے اور حضور سے ملتے رہے۔۱۹۰۵ء میں باقاعدہ بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔اسکے بعد تبلیغی جہاد کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو دم آخر تک جاری رہا۔حق کا پیغام پہنچانے کے لئے ہزارہ سے لے کر بنگال تک کے سفر کئے اور ۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۸ء تک سندھ میں امیر التبلیغ کے فرائض بھی نہایت خوبی سے سرانجام دیئے، جسکے دوران حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بیعت لینے کا خاص شرف بھی عطا کیا۔۱۹۵۰ء کی دہائی میں مولانا نے حیات بقا پوری کے نام سے اپنی آپ بیتی لکھ کر چار حصوں میں مندرجہ ذیل حضرات کے تعاون سے شائع کروائی: محترم حکیم مولوی عبد اللطیف صاحب شاہد محترم علی محمد صاحب۔قائم مقام ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز محترم بشارت احمد بشیر صاحب۔نائب وکیل التبشیر محترم مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری۔سابق پرو فیسر جامعتہ المبشرین ہمارے والد محترم ڈاکٹر محمد اسحاق بقا پوری صاحب ابن حضرت مولانا ابراہیم صاحب بقا پوری نے چند سال قبل حیات بقا پوری کے تمام حصوں کو یکجا کر کے شائع کروانے کا بیڑا اٹھایا اور کام کافی حد تک مکمل بھی کر لیا۔لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیا اور ۲۰۰۷ء میں کتاب کے شائع ہونے سے پہلے ہی وفات پاگئے۔