حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 263 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 263

حیات احمد ۲۶۳ جلد پنجم حصہ دوم امت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔لیکن حدیث کو آنحضرت صلعم نے اپنے رو برو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔کچھ حدیثیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جمع کی تھیں لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے انہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیں کہ یہ میرا سماع بلا واسطہ نہیں ہے خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے؟ پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گزر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہیے تب حدیثیں جمع ہوئیں۔اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پر ہیز گار تھے انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو ان کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی۔بہت محنت کی مگر تا ہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی با ایں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔یہودیوں میں بھی حدیثیں ہیں اور حضرت مسیح کے مقابل پر بھی وہی فرقہ یہودیوں کا تھا جو عامل بالحدیث کہلا تا تھا لیکن ثابت نہیں کیا گیا کہ یہودیوں کے محدثین نے ایسی احتیاط سے وہ حدیثیں جمع کی تھیں جیسا کہ اسلام کے محمد ثین نے۔تاہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نہ آشنا تھے۔کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعے سے ان میں پیدا ہو گیا تھا تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجود بھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی