حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 11 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 11

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم (۱) فرمایا آج رات کو الہام ہوا مَنَعَهُ مَا نِعْ مِّنَ السَّمَاءِ۔یعنی اس تفسیر نویسی میں کوئی تیرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔خدا نے مخالفین سے سلب طاقت اور سلب علم کر لیا ہے۔اگر چہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص یعنی مہر شاہ کی طرف ہے لیکن خدا نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کر کے ایک ہی کا حکم رکھا ہے تا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو۔کہ تمام مخالفین ایک وجود یا کئی جان ایک قالب بن کر اس تفسیر کے مقابلہ میں لکھنا چاہیں تو ہر گز نہ لکھ سکیں گے۔(الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۱۰۔تذکر صفحه ۳۲۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) (ب) * وَإِنِّي أُرِيتُ مُبَشِّرَةً فِي لَيْلَةِ الثَّلَثَاءِ۔إِذْ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَهُ مُعْجِزَةً لِلْعُلَمَاءِ۔وَدَعَوْتُ أَنْ لَا يَقْدِرَ عَلَى مِثْلِهِ أَحَدٌ مِّنَ الْأَدَبَاءِ۔وَلَا يُعْطَى لَهُمْ قُدْرَةٌ عَلَى الْإِنْشَاءِ۔فَأَجِيبَ دُعَائِي فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ الْمُبَارِكَةِ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ۔وَبَشَّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مَنْعَهُ مَانِعٌ مِنَ السَّمَاءِ فَفَهِمُتُ أَنَّهُ يُشِيرُ إِلَى أَنَّ الْعِدَا لَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ۔وَلَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَا كَصِفَتَيْهِ۔وَكَانَتْ هَذِهِ الْبَشَارَةُ مِنَ اللَّهِ الْمَنَّان۔فِي الْعَشْرِ الْآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔“ اعجاز امسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ۶۹۹۶۸۔تذکر صفحه ۳۳۰ مطبوع ۲۰۰۴ء) ( ج ) ”جب بالمقابل تفسیر نویسی میں مخالف مولوی عاجز آ گئے اور مہر علی شاہ گولڑی نے کئی ہید ( ترجمہ از مرتب ) مجھے منگل کی رات میں جبکہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔کہ اس کتاب (اعجاز مسیح) کو علماء کے لئے معجزہ بنادے اور یہ کہ کوئی ادیب اس کی مثل نہ لا سکے اور انہیں اس کے انشاء کی توفیق ہی نہ ملے اور میری دعا اسی رات خدا تعالیٰ کی جناب میں قبول ہوگئی اور میں نے ایک مبشر خواب دیکھی اور میرے رب نے مجھے یہ بشارت بھی دی اور فرمایا کہ مَنَعَهُ مَانِعَ مِنَ السَّمَاءِ یعنی جو مقابل پر آئے گا اس کو آسمانی روکوں کے ساتھ مقابلہ سے روک دیا جائے گا۔پس میں سمجھ گیا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن لوگ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے اور یہ بشارت مجھے رمضان شریف کے آخری عشرے میں ملی تھی۔