حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 380
حیات احمد ۳۸۰ جلد پنجم حصہ اوّل وہ نیچے پڑے ہوئے ہیں اور میں اوپر کے دالان میں ہوں۔میری حالت تحریر کے لائق نہ تھی لیکن تار کے دردانگیز اثر نے مجھے اٹھا کر بٹھا دیا۔آپ کا اس میں کیا حرج ہے کہ اس کی ہر روز مجھ کو اطلاع دیں۔معلوم نہیں کہ جو میں نے ابھی ایک بوتل میں دوار وانہ کی تھی وہ پہنچی ہے یا نہیں۔ریل کی معرفت روانہ کی گئی تھی اور معلوم نہیں کہ مالش ہر روز ہوتی ہے یا نہیں۔آپ ذرہ ذرہ حال سے مجھے اطلاع دیں اور خدا بہت قادر ہے۔تسلی دیتے رہیں۔چوزہ کا شور بہ یعنی بچے خورد کا ہر روز دیا کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ دستوں کی وجہ سے کمزوری نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہے۔والسلام /۲۵ / اپریل ۱۹۰۰ء مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ پنجم صفحه ۳۰۰،۲۹، مکتوبات احمد جلد ۳ صفحه ۳۷۴،۳۷۳ مطبوعہ دسمبر ۲۰۱۳ء) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبّی عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا وہ تار جس کا چند روز سے اندیشہ تھا آخر کل عصر کے بعد پہنچا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - عزیزی مرزا ایوب بیگ جیسا سعیدلڑکا جوسراسر نیک بختی اور محبت اور اخلاص سے پُر تھا اُس کی جدائی سے ہمیں بہت صدمہ اور درد پہنچا۔اللہ تعالیٰ تمہیں اور اس کے سب عزیزوں کو صبر عطا کرے اور اس مصیبت کا اجر بخشے۔( آمین ثم آمین ) اس مرحوم کے والد ضعیف کمزور کا کیا حال ہو گا اور اس کی بیوہ عاجزہ پر کیا گزرا ہوگا۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ سب کو اس صدمہ کے بعد صبر عطا فرمائے۔ایک جوان صالح نیک بخت جو اولیاء اللہ کی صفات اپنے اندر رکھتا تھا اور ایک پودہ نشو و نما یافتہ جو اب امید کے وقت پر پہنچ گیا تھا یکدفعہ اس کا کاٹا جانا اور دنیا سے ناپدید ہوجانا سخت صدمہ ہے۔اللہ جل شانہ سوختہ دلوں پر رحم کی بارش کرے۔اسی خط کے وقت جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف میری توجہ تھی کہ وہ کیوں کر جلد ہماری آنکھوں سے نا پید ہو گیا