حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 263 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 263

حیات احمد تشریح ۲۶۳ جلد پنجم حصہ اوّل حقیقی اتحاد سے غرض یہ ہے کہ اہلِ اسلام عملی طور پر اتفاق کے پابند ہوں کیونکہ اسلام کی لا انتہا خوبیوں میں سے یہی مہتم بالشان ایسی خوبی ہے جو بنی نوع انسان کو مُتَّحِدا لخلق والخلق وَالْعَمَلُ وَالْخَيَالِ بنے کی تعلیم دیتی ہے مگر وائے بَر حَالِ مَا کہ اس وقت یہ ساری باتیں ہماری زبان اور کتابوں میں برائے گفتن، خواندن میں عملی نتیجہ تو الا مَا شَاءَ اللہ حکم عنقار کھتا ہے بلکہ قریب تھا کہ یہ جوش لسانی و حریری بھی بالکل بے سود پڑ جائے مگر وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُوْرِہ کے ازلی اور زبردست اقتضاء نے ایسے نازک وقت میں ایک متبع سنت اور نائب الرسول امام الوقت کو اس کی تقویت کے لئے حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَّحِیمٌ کی صفت عنایت فرما کر کھڑا کر دیا جو ملک پنجاب سے ہدایت کے انوار کو بڑے زور کے ساتھ ساری دنیا میں پھیلا رہا ہے اور ہمارے نبی فَدَاهُ أُمِّي وَ أَبِي کا زندہ معجزہ ہے لہذا اب ہم سب مسلمانوں کو چاہیے کہ باہم سچے اتفاق سے اس مقدس امام کی پیروی کریں اور زندہ اسلام سے مشرف ہو کر اپنی گم کردہ گرانما یہ پونچی کو پھر حاصل کریں۔فقره (۲)۔قرآن مجید کی تعلیم اور اس کی اتباع میں ہر شریک بقدر طاقت خود حصہ لیا کرے۔فقرہ (۳)۔باہمی ہر شریک اس جماعت کے اغراض و مقاصد کا محافظ رہے گا۔اور حتی الوسع با ہمی مواسات و ہمدردی ذاتی بھی کرنی ہوگی۔شریک ہر شخص موجودہ حیدر آباد جو حضرت اقدس سے بیعت ہو یا حضرت موصوف کا معتقد ہوا ایک شریک جماعت حضرت اقدس کا ہو سکے گا۔چنده ہر شریک جماعت کے سامنے فہرست چندہ پیش کی جائے گی ہر شخص اپنی استطاعت اور طیب خاطر سے جو مقدار چندہ درج فہرست کر دے گا ماہانہ اس کی ادائی اس پر لازم ہوگی۔