حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 395
حیات احمد ۳۹۵ جلد چهارم سے منشی کنہیالال الکھ دھاری اور منشی اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری نے بھی اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے اصل روایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مداخلت میں پیش کیا۔مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبوں کا ہے کیونکہ ہندوؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھلایا مگر براہِ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے۔“ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۸۰۷۹) بقیہ حاشیہ۔تک پہنچایا اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے سوجنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھائیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے۔کیا یہ دیانت کا طریق ہے یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں میں بہت نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑا جاتا تھا اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا۔اور نہ عورتوں کو اور نہ بڑھوں کو اور نہ فقیروں اور مسافروں کو مارا۔اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسمار کیا لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔یہاں تک کہ تین لاکھ سے بھی زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے گویا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ ان میں وہ ختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی اگر اس درجہ کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوئیں تو قبول کر لیتے کہ در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اب ہر یک عقل مند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدارحم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹھہریں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو الہی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوئیں۔اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بے رحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہوکر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔منہ ( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰صفحه ۷۹ تا ۳ ۸ حاشیه )