حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 359
حیات احمد ۳۵۹ جلد چهارم چہارم۔اس ہماری تحریرہ سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہو چکا اور آگے کچھ نہیں کیوں کہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں وَنُمَزّق الْاَعْدَاءَ كُلَّ مُمَزَّقٍ۔(ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے یعنی اپنی حجت کامل طور پران پر پوری کر دیں گے )۔دیکھو (انوار الاسلام صفحه ۱۵، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۶، ۱۷) پنجم۔اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے۔جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔( اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں یعنی اس کے موت کے دن )۔دیکھو (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۔انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۱۴) ششم۔مگر تا ہم یہ کنارہ کشی (آتھم کی یعنی قسم سے انکار کرنا ) بے سود ہے۔کیوں کہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آٹھم کی گردن پر ہے۔اگر چہ آتھم نے قسم اور نالش سے پہلو تہی کر کے اپنے اس طریق سے صاف بتلا دیا کہ ضرور اس نے ) رجوع بحق کیا اور تین حملوں کی طرز وقوع سے بھی (جن کا وہ مدعی تھا کھلے طور پر ) بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے۔مگر پھر بھی آتھم اس جرم سے بری نہیں ہے کہ اس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔دیکھو رسالہ ضیاء الحق مطبوعہ مئی ۱۸۹۵ء صفحه ۱۵ ۱۶۔روحانی خزائن جلد ۹صفحه ۲۶۸، ۲۶۹) ایسا ہی ان رسائل اور اشتہارات کے اور مقامات میں بار بار لکھا گیا ہے کہ موت میں صرف مہلت دی گئی ہے اور وہ بہر حال انکار پر جمے رہنے کی حالت میں آتھم صاحب کو پکڑلے گی چنانچہ ہمارا آخری اشتہار جو آئقم صاحب کے قسم کھانے