حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 339
۳۳۹ جلد چهارم حیات احمد لعتير اسلامی عظمت کو اپنے دل میں جگہ دے کر حق کی طرف رجوع کر لیا تھا۔اگر اب بھی بعض متعصب یا ناقص الفہم لوگ شک رکھتے ہیں اب ہم یہ دوسرا اشتہار دو ہزار روپیہ انعام کی شرط سے نکالتے ہیں اگر آتھم صاحب تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نے پیشگوئی کی مدت کے اندر عظمت اسلامی کو اپنے دل پر جگہ ہونے نہیں دی اور برابر دشمن اسلام رہا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت اور کفارہ پر مضبوط ایمان رکھا تو اسی وقت نقد دو ہزار روپید ان کو بشرائط قرار دادہ اشتہار ۹ رستمبر ۱۸۹۴ء بلا توقف دیا جائے گا اور اگر ہم بعد قسم دو ہزار روپیہ دینے میں ایک منٹ کی بھی توقف کریں تو وہ تیں جو نادان مخالف کر رہے ہیں ہم پر وارد ہوں گی۔اور ہم بلاشبہ جھوٹے ٹھہریں گے۔اور قطعاً اس لائق ٹھہریں گے کہ ہمیں سزائے موت دی جائے۔اور ہماری کتابیں جلا دی جائیں اور ملعون وغیرہ ہمارے نام رکھے جائیں اور اگر اب بھی آتھم صاحب باوجود اس قدر انعام کثیر کے قسم کھانے سے منہ پھر لیں تو تمام دشمن و دوست یا درکھیں کہ انہوں نے محض عیسائیوں سے خوف کھا کر حق کو چھپایا ہے۔اور اسلام غالب اور فتح یاب ہے پہلے تو ان کے حق کی طرف رجوع کرنے کا صرف ایک گواہ تھا۔یعنی ان کی وہ خوف زدہ صورت جس میں انہوں نے پندرہ مہینے بسر کئے اور دوسرا گواہ یہ کھڑا ہوا کہ انہوں نے باوجود ہزار روپیہ نقد ملنے کے قسم کھانے سے انکار کیا ہے۔اب تیسرا گواہ یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار ہے۔اگر اب بھی قسم کھانے سے تمام انکار کریں تو رجوع ثابت۔تیسرا اشتہار تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۲۸ تا ۱۳۱ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۴۰۹ تا ۴۱۱ طبع بار دوم ) اس اشتہار کے بعد بھی آتھم کو جرات نہ ہوئی البتہ نیم عیسائیوں ( مخالفین و مکذبین علماء) نے مختلف قسم کے اعتراضات کر کے اس اسلامی فتح کو مشکوک کرنا چاہا۔اس پر آپ نے ایک تیسرا