حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 2 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 2

حیات احمد جلد سوم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم عرض حال الحمد لله ثم الحمد للہ کہ حیات احمد کی تعمیل کا کام جو ۱۸ سال تک بند رہنے کے بعد دسمبر ۱۹۵۱ء میں شروع کیا تھا اس سلسلہ میں سال رواں کی پہلی ہی ششماہی میں حیات احمد کے عہد جدید کی پہلی اور سلسلہ میں تیسری جلد شائع کرنے کی توفیق ملی۔اس جلد میں ۱۸۸۹ء (سال بیعت) سے ۱۸۹۲ء تک کے حالات درج ہیں جیسا کہ میں نے گزشتہ اشاعت میں ذکر کیا تھا کہ اس سے پہلے کے دو نمبر حضرت نواب محمد دین اور حضرت سیٹھ حسن کے دست اعانت کا نتیجہ تھا۔اور اس جلد کی اشاعت میں ۱۴ جزو کے کاغذ کیلئے عزیزم مکرم مولوی محمد معین الدین احمد چنتہ کنٹہ نے ہاتھ بڑھایا۔اور سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ اس معاملہ میں میری کسی تحریک کے بغیر آگے نہ آتے تو شاید یہ جلد اس قدر جلد شائع نہ کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کو بلند کرنا ایک عبادت ہے یہ حقیقت عارف سمجھ سکتا ہے۔اس اعانت اور اخلاص کا مقام اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب بغیر کسی تحریک کے ہو۔اللہ تعالیٰ انہیں بیش از پیش خدمت دین کی توفیق روزی کرے۔اگر یہ کتاب جلد سے جلد نکل گئی تو دسمبر تک انشاء اللہ العزیز اس عہد جدید کی دوسری جلد جو۱۸۹۳ء سے ۱۹۰۰ء تک کے واقعات پر مشتمل ہوگی شائع کرنے کی امید رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے کسی اہلِ دل کو توفیق دے کہ وہ میرا ہاتھ بٹاوے۔میں اپنی حقیر کوشش کو اپنے محسن مولیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے جاری رکھوں گا جس نے اس پیران سالی میں توفیق دی اور سامان پیدا کر دیا۔اس کے فضل سے کیا بعید کہ اس کی تکمیل کی توفیق پاؤں وَمَا ذَالِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ الْكَرِيْمُ خاکسار عرفانی الکبیر ۵/اگست ۱۹۵۲ء